صحیح بخاری حدیث ۲۱۱۷ - خرید و فروخت میں دھوکہ نہیں
لا خلابة کی حدیث: خرید و فروخت میں دھوکہ نہ ہو
صحیح بخاری : ۲۱۱۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۱۷
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَجُلًا ذَكَرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ ، وَسَلَّمَ أَنَّهُ يُخْدَعُ فِي الْبُيُوعِ ، فَقَالَ : " إِذَا بَايَعْتَ ، فَقُلْ : لَا خِلَابَةَ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
ایک شخص (حبان بن منقذ رضی اللہ عنہ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ وہ اکثر خرید و فروخت میں دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جب تم کسی چیز کی خرید و فروخت کرو تو یوں کہہ دیا کرو کہ ”بھائی دھوکہ اور فریب کا کام نہیں۔“
صحیح بخاری حدیث ۲۱۱۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ وہ اکثر خرید و فروخت میں دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک سادہ بات سکھائی کہ جب تم خرید و فروخت کرو تو کہہ دیا کرو: لا خلابة، یعنی دھوکہ اور فریب کا کام نہیں۔ اس حدیث کا اصل موضوع خرید و فروخت میں دھوکہ، فریب سے بچاؤ اور صاف معاملہ ہے۔ یہ روایت بہت عملی ہے، خاص طور پر ایسے آدمی کے لیے جو بازار میں کمزور ہو یا آسانی سے دھوکہ کھا جائے۔ متن سے یہی بات ملتی ہے کہ آدمی اپنی شرط یا بات صاف کر دے تاکہ سامنے والا دھوکے کی راہ نہ لے۔ لا خلابة، دھوکہ نہیں، بیع میں فریب اور خریدار کا حق اس حدیث کے اہم سرچ الفاظ ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جو شخص دھوکہ کھاتا ہو اسے معاملہ کرتے وقت اپنی بات صاف کرنی چاہیے۔
- خرید و فروخت میں دھوکہ اور فریب سے بچنا ضروری ہے۔
- لا خلابة کہنے کی ہدایت ایک عملی طریقہ ہے۔
- کمزور خریدار یا بیچنے والے کے حق کی حفاظت کی گئی ہے۔
