صحیح مسلم حدیث ۳۷۵۰ - ابن عمر رضی اللہ عنہما سے لعان کا مسئلہ
لعان کا مسئلہ: ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کی روایت
صحیح مسلم : ۳۷۵۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۵۰
وحَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ : عَنِ اللِّعَانِ ، فَذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .
سعید بن جبیر روایت:
میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے لعان کو پوچھا تو انہوں نے نقل کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہی جیسے اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۳۷۵۰ کا خلاصہ
یہ روایت مختصر ہے، مگر لعان کے باب میں اہم ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے لعان کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہی مضمون نقل کیا جو پہلے گزر چکا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لعان کے مسئلے میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل محفوظ تھا۔ اس روایت سے ایک صاف بات سمجھ آتی ہے کہ جب کوئی دینی مسئلہ مشکل ہو، خاص طور پر نکاح، الزام، جدائی اور نسب جیسے نازک معاملات میں، تو آدمی کو اہل علم سے پوچھنا چاہیے۔ یہاں کوئی نئی تفصیل نہیں دی گئی، بلکہ پچھلے حکم کی تائید ہے کہ لعان ایک شرعی طریقہ ہے، اس کے بعد جدائی کا معاملہ آتا ہے، اور حقیقت کا علم اللہ کے پاس ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے لعان کا مسئلہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا۔
- روایت پچھلے مضمون کی تائید کرتی ہے۔
- مشکل دینی مسئلے میں علم والے سے رجوع کرنا چاہیے۔
- لعان کا حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے نقل ہوا۔
