صحیح بخاری حدیث ۵۳۱۴ - انصاری میاں بیوی کا لعان
انصاری میاں بیوی کا لعان اور جدائی
صحیح بخاری : ۵۳۱۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۳۱۴
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " لَاعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا " .
ابن عمر روایت:
قبیلہ انصار کے ایک صاحب اور ان کی بیوی کے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرایا تھا اور دونوں کے درمیان جدائی کرا دی تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۵۳۱۴ کا خلاصہ
یہ حدیث بھی لعان کے مسئلے کو نہایت مختصر مگر واضح انداز میں بیان کرتی ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے انصار کے ایک صاحب اور ان کی بیوی کے درمیان لعان کرایا، پھر دونوں کے درمیان جدائی کرا دی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب میاں بیوی کے درمیان ایسا سنگین الزام آئے جس کا تعلق عزت، نکاح اور نسب سے ہو تو معاملہ باتوں یا غصے سے ختم نہیں کیا جاتا۔ لعان کا شرعی طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ اس حدیث میں اصل توجہ اسی بات پر ہے کہ لعان کے بعد نکاح باقی نہ رکھا گیا بلکہ جدائی کرائی گئی۔ اس لیے لعان کی حدیث قذف کے معاملے میں بہت اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- لعان نبی صلى الله عليه وسلم کے سامنے شرعی طریقے سے کرایا گیا۔
- واقعے میں دونوں میاں بیوی کو جدا کیا گیا۔
- تہمت کے معاملے کو ذاتی انتقام نہیں بنایا گیا۔
- مختصر روایت لعان کے نتیجے کو صاف کر دیتی ہے۔
