صحیح بخاری حدیث ۵۳۱۵ - بچے کا نسب ماں سے

لعان کے بعد بچے کا نسب: ولد کو ماں سے ملانا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۳۱۵

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَاعَنَ بَيْنَ رَجُلٍ وَامْرَأَتِهِ ، فَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا ، فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ " .

ابن عمر روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب اور ان کی بیوی کے درمیان لعان کرایا تھا۔ پھر ان صاحب نے اپنی بیوی کے لڑکے کا انکار کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے درمیان جدائی کرا دی اور لڑکا عورت کو دے دیا۔

صحیح بخاری حدیث ۵۳۱۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں لعان کے بعد بچے کے نسب کا ذکر خاص طور پر آیا ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ایک مرد اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کرایا۔ پھر اس مرد نے عورت کے بچے کا انکار کیا۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے دونوں کے درمیان جدائی کرا دی اور لڑکے کو عورت کے ساتھ ملا دیا۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ لعان کے اثرات صرف میاں بیوی کی جدائی تک محدود نہیں رہتے، بلکہ بچے کے نسب کا معاملہ بھی سامنے آتا ہے۔ حدیث میں جو بات صاف موجود ہے وہ یہی ہے کہ لعان کے بعد بچے کو ماں کی طرف منسوب کیا گیا۔ اس لیے یہ روایت متلاعنین کے بچے کے بارے میں اہم ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • لعان کے بعد میاں بیوی کے درمیان جدائی ہوئی۔
  • شوہر نے بچے کا انکار کیا تو بچہ عورت کے ساتھ ملایا گیا۔
  • نسب کا مسئلہ نبی صلى الله عليه وسلم کے فیصلے سے طے ہوا۔
  • بچے کے معاملے میں بھی شرعی فیصلہ ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں