صحیح مسلم حدیث ۳۶۳۵ - نکاح میں دینداری کو ترجیح

نکاح میں دینداری: بیوی کے انتخاب کی نبوی رہنمائی

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۳۵

حدثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالُوا : حدثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ : " تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ : لِمَالِهَا ، وَلِحَسَبِهَا ، وَلِجَمَالِهَا ، وَلِدِينِهَا ، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت سے نکاح کیا جاتا ہے چار سبب سے، اس کے مال کے لئے اور جمال کے لئے اور حسب کے لیے اور دین کے لئے سو تو دیندار پر فتح حاصل کر تیرے ہاتھ میں خاک بھرے۔“

صحیح مسلم حدیث ۳۶۳۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت سے نکاح چار سبب سے کیا جاتا ہے: مال، حسب، جمال، اور دین۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیندار عورت کو حاصل کرنے کی نصیحت فرمائی۔ اس حدیث کا اصل موضوع نکاح میں دینداری کو ترجیح دینا ہے۔ متن میں مال، خوبصورتی، خاندان اور دین سب کا ذکر آیا، مگر آخر میں دین کو مقدم رکھنے کی بات فرمائی گئی۔ نکاح کا انتخاب، دیندار بیوی، شادی کے لیے معیار، اور بیوی کے انتخاب کی حدیث جیسے الفاظ اسی مضمون سے جڑے ہیں۔ حدیث یہ نہیں کہتی کہ باقی چیزیں موجود نہیں ہوتیں، بلکہ یہ بتاتی ہے کہ فیصلہ کرتے وقت دین کو خاص اہمیت دی جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عورت سے نکاح کے چار اسباب روایت میں بیان ہوئے ہیں۔
  • مال، حسب اور جمال کے ساتھ دین کا بھی ذکر آیا ہے۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیندار عورت کو ترجیح دینے کی نصیحت فرمائی۔
  • نکاح کے فیصلے میں دین کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں