صحیح مسلم حدیث ۳۶۴۰ - گھر واپسی اور زوجین کا خیال

سفر سے واپسی پر گھر والوں کا خیال: جابر رضی اللہ عنہ کا واقعہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۴۰

حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنا هُشَيْمٌ ، عَنْ سَيَّارٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ ، فَلَمَّا أَقْبَلْنَا تَعَجَّلْتُ عَلَى بَعِيرٍ لِي قَطُوفٍ ، فَلَحِقَنِي رَاكِبٌ خَلْفِي فَنَخَسَ بَعِيرِي بِعَنْزَةٍ كَانَتْ مَعَهُ ، فَانْطَلَقَ بَعِيرِي كَأَجْوَدِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنَ الْإِبِلِ فَالْتَفَتُّ ، فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، فقَالَ : " مَا يُعْجِلُكَ يَا جَابِرُ ؟ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ ، فقَالَ : " أَبِكْرًا تَزَوَّجْتَهَا أَمْ ثَيِّبًا ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : بَلْ ثَيِّبًا ، قَالَ : " هَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا ، وَتُلَاعِبُكَ " ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ ، فقَالَ : " أَمْهِلُوا حَتَّى نَدْخُلَ لَيْلًا أَيْ عِشَاءً ، كَيْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ ، وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ " ، قَالَ : وَقَالَ : إِذَا قَدِمْتَ فَالْكَيْسَ الْكَيْسَ .

جابر بن عبداللہ روایت:

ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ایک جہاد میں پھر جب لوٹ کر آئے تو میں نے اپنے اونٹ کو جلدی چلایا اور وہ بڑا ست تھا سو ایک سوار میرے پیچھے سے آیا اور میرے اونٹ کو اپنی چھڑی سے ایک کونچا دیا جو ان کے پاس تھی اور میرا اونٹ ایسا چلنے لگا کہ دیکھنے والے نے اس سے بہتر نہ دیکھا اور میں پھر کر دیکھا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ اے جابر! (تم کو کیا جلدی ہے؟“میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! میری نئی نئی شادی ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا باکرہ سے یا ثیبہ سے؟“ میں نے کہا: ثیبہ سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”باکرہ سے کیوں نہ کی تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی۔“ پھر جب ہم مدینہ پر آئے چلے کہ داخل ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ ٹھہر جاؤ یہاں تک کہ آ جائے رات یعنی عشاء کا وقت تاکہ سر میں کنگھی کرے پریشان بالوں والی اور استرہ لے لے جس کا شوہر باہر گیا ہو۔“ پھر فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ”جب گیا تو تو پھر جماع ہے جماع ہے۔“ یعنی تکثیر امت کے لئے نہ کہ صرف لذت کے لئے)۔

صحیح مسلم حدیث ۳۶۴۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جہاد میں تھے۔ واپسی پر وہ جلدی کر رہے تھے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وجہ پوچھی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی نئی نئی شادی ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ باکرہ سے نکاح کیا یا ثیبہ سے؟ انہوں نے کہا: ثیبہ سے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باکرہ کے بارے میں وہی بات فرمائی جو باہمی دل لگی سے متعلق ہے۔ جب مدینہ پہنچنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رات، یعنی عشاء کے وقت داخل ہوں، تاکہ پریشان بالوں والی کنگھی کر لے اور جس کا شوہر باہر گیا ہو وہ صفائی کر لے۔ اس حدیث میں سفر سے واپسی کے آداب، زوجین کا خیال، اور گھر میں داخل ہونے سے پہلے مہلت دینے کا سبق ملتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سفر سے واپسی پر گھر والوں کو تیاری کا وقت دینا بیان ہوا ہے۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جابر رضی اللہ عنہ کی جلدی کی وجہ پوچھی۔
  • نکاح میں باکرہ اور ثیبہ کا سوال اس روایت میں بھی آیا ہے۔
  • گھر میں داخل ہونے کے وقت بیوی کی حالت اور تیاری کا خیال رکھا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں