صحیح مسلم حدیث ۳۶۳۹ - گھر کی خدمت کے لیے نکاح
ایسی بیوی کا انتخاب جو گھر کی دیکھ بھال کرے
صحیح مسلم : ۳۶۳۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۳۹
وحدثناه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ نَكَحْتَ يَا جَابِرُ " ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ إِلَى قَوْلِهِ : امْرَأَةً تَقُومُ عَلَيْهِنَّ وَتَمْشُطُهُنَّ ، قَالَ : أَصَبْتَ وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ .
جابر روایت:
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے وہی مضمون مروی ہے اور اس میں یہیں تک مذکور ہے کہ میں نے ایسی عورت کی جو ان کی خدمت کرے اور ان کی کنگھی کرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خوب کیا۔“ اور اس کے بعد کا ذکر نہیں۔
صحیح مسلم حدیث ۳۶۳۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے وہی مضمون مروی ہے، مگر اس روایت میں بات اس جگہ تک آتی ہے کہ انہوں نے ایسی عورت سے نکاح کیا جو ان کی بہنوں کی خدمت کرے اور ان کی کنگھی کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے خوب کیا۔ اس روایت میں جابر رضی اللہ عنہ کی نیت یا گھر کی ذمہ داری ایک سادہ انداز میں سامنے آتی ہے۔ انہوں نے ثیبہ سے نکاح اس لیے کیا کہ گھر میں موجود لڑکیوں کی دیکھ بھال ہو سکے۔ اس حدیث کا اصل موضوع نکاح کا انتخاب، خاندانی ذمہ داری، اور گھر کی خدمت ہے۔ چونکہ اس روایت میں بعد کی تفصیل نہیں آئی، اس لیے اس کی وضاحت بھی اسی حد میں رہتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جابر رضی اللہ عنہ نے گھر کی ضرورت کے مطابق نکاح کا انتخاب کیا۔
- روایت میں بہنوں کی خدمت اور کنگھی کرنے کا ذکر آیا ہے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے خوب کیا۔
- نکاح کے فیصلے میں خاندانی ذمہ داری کا پہلو موجود ہو سکتا ہے۔
