صحیح مسلم حدیث ۳۶۳۸ - نکاح اور بہنوں کی ذمہ داری
جابر رضی اللہ عنہ کا نکاح: بہنوں کی خدمت کا خیال
صحیح مسلم : ۳۶۳۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۳۸
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ، هَلَكَ وَتَرَكَ تِسْعَ بَنَاتٍ ، أَوَ قَالَ : سَبْعَ ، فَتَزَوَّجْتُ امْرَأَةً ثَيِّبًا ، فقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا جَابِرُ ، تَزَوَّجْتَ " ، قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَبِكْرٌ أَمْ ثَيِّبٌ " ، قَالَ : قُلْتُ : بَلْ ثَيِّبٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ ، أَوَ قَالَ : تُضَاحِكُهَا وَتُضَاحِكُكَ " ، قَالَ : قُلْتُ لَهُ : إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ هَلَكَ وَتَرَكَ تِسْعَ بَنَاتٍ أَوْ سَبْعَ ، وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ آتِيَهُنَّ أَوْ أَجِيئَهُنَّ بِمِثْلِهِنَّ ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَجِيءَ بِامْرَأَةٍ تَقُومُ عَلَيْهِنَّ وَتُصْلِحُهُنَّ ، قَالَ : " فَبَارَكَ اللَّهُ لَكَ " ، أَوَ قَالَ : لِي خَيْرًا ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي الرَّبِيعِ : تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ ، وَتُضَاحِكُهَا وَتُضَاحِكُكَ ،
جابر بن عبداللہ روایت:
سیدنا جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہا سے پہلے وہی مضمون مروی ہے اخیر میں ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے وفات پائی (یہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما کے والد ہیں جنگ احد میں شہید ہوئے تھے) اور نو یا سات لڑکیاں چھوڑ گئے تو مجھے پسند نہ آیا کہ میں ان کے برابر ایک لڑکی بیاہ لاؤں اور میں نے چاہا کہ ایسی عورت لاؤں جو ان کی خدمت کرے اور ان کی خبر لے۔ سو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تجھ کو برکت دے۔“ یا کوئی اور دعائے خیر فرمائی۔
صحیح مسلم حدیث ۳۶۳۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے۔ ان کے والد سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے اور نو یا سات لڑکیاں چھوڑ گئے۔ جابر رضی اللہ عنہ نے ثیبہ عورت سے نکاح کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ باکرہ سے یا ثیبہ سے؟ انہوں نے کہا کہ ثیبہ سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باکرہ کے بارے میں سوال کیا، تو جابر رضی اللہ عنہ نے وجہ بتائی کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ اپنی بہنوں جیسی ایک کم عمر لڑکی لاؤں، بلکہ ایسی عورت چاہی جو ان کی خدمت کرے اور ان کی خبر لے۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے برکت کی دعا فرمائی یا خیر کی بات کہی۔ اس حدیث میں نکاح کا انتخاب، گھر کی ذمہ داری، بہنوں کی دیکھ بھال، اور مصلحت کا صاف بیان ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جابر رضی اللہ عنہ نے نکاح میں اپنی بہنوں کی ضرورت کو سامنے رکھا۔
- ثیبہ سے نکاح کی وجہ گھر کی دیکھ بھال بیان کی گئی۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے برکت کی دعا فرمائی یا خیر کہا۔
- نکاح کے فیصلے میں گھر والوں کی ذمہ داری بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
