صحیح مسلم حدیث ۳۶۳۷ - باکرہ یا ثیبہ سے نکاح

باکرہ یا ثیبہ سے نکاح: جابر رضی اللہ عنہ کا واقعہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۳۷

حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَارِبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً ، فقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ تَزَوَّجْتَ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا " ، قُلْتُ : ثَيِّبًا ، قَالَ : " فَأَيْنَ أَنْتَ مِنَ الْعَذَارَى وَلِعَابِهَا ؟ " ، قَالَ شُعْبَةُ : فَذَكَرْتُهُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، فقَالَ : قَدْ سَمِعْتَهُ مِنْ جَابِرٍ ، وَإِنَّمَا قَالَ : فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا ، وَتُلَاعِبُكَ .

‏‏‏‏ مندرجہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۳۶۳۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا نکاح کا واقعہ ایک دوسری سند سے بیان ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ کیا تم نے نکاح کیا؟ انہوں نے عرض کیا: ہاں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ باکرہ سے یا ثیبہ سے؟ انہوں نے کہا: ثیبہ سے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باکرہ سے نکاح کے بارے میں فرمایا، جس میں باہمی خوش طبعی اور دل لگی کا ذکر آیا ہے۔ روایت کے آخر میں شعبہ اور عمرو بن دینار کے درمیان الفاظ کا بیان بھی ہے۔ یہ حدیث نکاح کے انتخاب، باکرہ و ثیبہ، اور زوجین کے باہمی تعلق کے موضوع سے متعلق ہے۔ چونکہ اس روایت میں جابر رضی اللہ عنہ کی گھر والی وجہ بیان نہیں ہوئی، اس لیے یہاں بات اسی سوال و جواب تک محدود رہے گی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جابر رضی اللہ عنہ سے نکاح کے بارے میں پوچھا۔
  • روایت میں باکرہ اور ثیبہ کا فرق سوال کی صورت میں آیا۔
  • زوجین کے درمیان خوش طبعی کا ذکر الفاظ میں موجود ہے۔
  • اس سند میں جابر رضی اللہ عنہ کی تفصیلی وجہ بیان نہیں ہوئی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں