صحیح مسلم حدیث ۳۶۳۶ - نکاح میں دین اور گھر کی مصلحت
نکاح میں دینداری اور گھر کی ضرورت کا خیال
صحیح مسلم : ۳۶۳۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۳۶
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَقِيتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : " يَا جَابِرُ ، تَزَوَّجْتَ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " بِكْرٌ أَمْ ثَيِّبٌ " ، قُلْتُ : ثَيِّبٌ ، قَالَ : " فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي أَخَوَاتٍ ، فَخَشِيتُ أَنْ تَدْخُلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُنَّ ، قَالَ : " فَذَاكَ إِذَنْ إِنَّ الْمَرْأَةَ تُنْكَحُ عَلَى : دِينِهَا ، وَمَالِهَا ، وَجَمَالِهَا ، فَعَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ " .
جابر روایت:
میں نے نکاح کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کہ اے جابر! تم نے نکاح کیا۔“ میں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”باکرہ سے یا بیوہ سے؟“ میں نے عرض کی کہ بیوہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”باکرہ سے کیوں نہ کیا کہ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی۔“میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! میری کئی بہنیں ہیں سو مجھے خیال ہوا کہ ایسا نہ ہو کہ وہ مجھے ان کی پرورش سے مانع ہو جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ اگر یہ خیال ہے تو خیر۔“ پھر فرمایا: ”عورت سے نکاح کیا جاتا ہے اس کے دین کے لیے، مال کے لیے، جمال کے لیے سو تو دین کو مقدم رکھ تیرے دونوں ہاتھ میں خاک بھرے۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۶۳۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ اپنے نکاح کا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تم نے نکاح کیا؟ پھر پوچھا کہ باکرہ سے یا ثیبہ سے؟ انہوں نے عرض کیا کہ ثیبہ سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ باکرہ سے کیوں نہ کیا کہ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میری کئی بہنیں ہیں، مجھے خیال ہوا کہ کوئی ایسی عورت نہ آ جائے جو میرے اور ان کے درمیان رکاوٹ بنے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ خیال ہے تو خیر۔ پھر عورت سے نکاح کے اسباب میں دین، مال اور جمال کا ذکر فرمایا اور دین کو مقدم رکھنے کی نصیحت کی۔ اس حدیث میں نکاح کا انتخاب، دینداری، اور گھر کی ذمہ داری تینوں باتیں متن میں موجود ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نکاح کے بارے میں باکرہ اور ثیبہ کا سوال روایت میں آیا ہے۔
- جابر رضی اللہ عنہ نے اپنی بہنوں کی ذمہ داری کو سامنے رکھا۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مصلحت کو قبول فرمایا۔
- دین کو نکاح کے انتخاب میں مقدم رکھنے کی نصیحت کی گئی۔
