صحیح بخاری حدیث ۵۳۱۳ - قسم کے بعد جدائی

لعان میں قسم اور جدائی کا آسان بیان

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۳۱۳

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَرَّقَ بَيْنَ رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ قَذَفَهَا وَأَحْلَفَهُمَا " .

ابن عمر روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرد اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی کرا دی تھی جنہوں نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی تھی اور دونوں سے قسم لی تھی۔

صحیح بخاری حدیث ۵۳۱۳ کا خلاصہ

یہ روایت مختصر ہے مگر لعان کے بنیادی حکم کو صاف انداز میں بیان کرتی ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے مطابق نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اس مرد اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی کرا دی جس نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی تھی۔ اس سے پہلے دونوں سے قسم لی گئی۔ حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ بیوی پر تہمت کا معاملہ صرف گھریلو الزام نہیں، بلکہ اس کے لیے شرعی عمل ہے جس میں دونوں فریق اللہ کا نام لے کر اپنی بات کہتے ہیں۔ لعان کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ نکاح، عزت اور نسب کے معاملے میں بے احتیاطی نہیں ہو سکتی۔ یہاں فیصلہ قسم کے بعد جدائی کی صورت میں سامنے آیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • تہمت کے معاملے میں دونوں فریقوں سے قسم لی گئی۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے لعان کے بعد جدائی کرا دی۔
  • یہ روایت لعان کے بنیادی شرعی نتیجے کو مختصر طور پر بیان کرتی ہے۔
  • بیوی کی عزت اور نکاح کے معاملے میں احتیاط لازم ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں