صحیح مسلم حدیث ۳۷۵۱ - لعان کے بعد جدائی کا نبوی فیصلہ
لعان کے بعد جدائی: نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا فیصلہ
صحیح مسلم : ۳۷۵۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۵۱
وحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِلْمِسْمَعِيِّ ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : لَمْ يُفَرِّقْ الْمُصْعَبُ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ ، قَالَ سَعِيدٌ : فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، فَقَالَ : " فَرَّقَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَخَوَيْ بَنِي الْعَجْلَانِ " .
سعید بن جبیر روایت:
مصعب نے جدائی نہیں کی لعان کرنے والوں میں۔ میں نے اس کا ذکر کیا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جدائی کر دی بنی عجلان کے مرد اور عورت میں۔
صحیح مسلم حدیث ۳۷۵۱ کا خلاصہ
اس روایت میں لعان کے بعد جدائی کے حکم کو ایک عملی سوال کے جواب میں بیان کیا گیا ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مصعب نے لعان کرنے والوں میں جدائی نہیں کی۔ جب یہ بات سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے ذکر کی گئی تو انہوں نے صاف فرمایا کہ نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عجلان کے مرد اور عورت میں جدائی کر دی تھی۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ لعان کے باب میں اصل معیار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے۔ یہاں لمبی تفصیل نہیں، مگر ایک واضح بات ہے کہ متلاعنین کے بارے میں جدائی کا حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔ اس لیے لعان کے بعد جدائی، بنی عجلان کا واقعہ، اور متلاعنین کا حکم اس روایت کے اہم سرچ الفاظ ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مصعب کے فیصلے کا ذکر ابن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے کیا گیا۔
- ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو دلیل بنایا۔
- بنی عجلان کے مرد اور عورت میں جدائی کی گئی۔
- لعان کے مسئلے میں نبوی فیصلہ اصل رہنمائی ہے۔
