صحیح مسلم حدیث ۳۷۴۹ - لعان کے بعد توبہ کی دعوت

لعان کی حدیث: اللہ جانتا ہے تم میں سے کون جھوٹا ہے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۴۹

وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : فَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَخَوَيْ بَنِي الْعَجْلَانِ ، وَقَالَ : " اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ ؟ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جدائی کر دی بنی عجلان کی جورو، مرد میں اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جانتا ہے تم میں سے کوئی جھوٹا ہے پھر کیا تم میں سے کوئی توبہ کرتا ہے؟“

صحیح مسلم حدیث ۳۷۴۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں لعان کے بعد ایک بہت نرم مگر سنجیدہ تنبیہ بیان ہوئی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عجلان کے مرد اور عورت میں جدائی کر دی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ جانتا ہے تم میں سے کوئی ایک جھوٹا ہے، تو کیا تم میں سے کوئی توبہ کرتا ہے؟ اس جملے میں لعان کے ظاہری فیصلے کے ساتھ دل کی سچائی کا معاملہ اللہ کے سپرد کیا گیا ہے۔ عدالت یا مجلس میں جو طریقہ مکمل ہوا، وہ اپنی جگہ تھا، مگر جھوٹ یا سچ کا اصل علم اللہ کو ہے۔ اس حدیث کو لعان کے بعد توبہ، اللہ جانتا ہے حدیث، اور متلاعنین کا حکم جیسے الفاظ سے تلاش کیا جاتا ہے۔ اس میں کسی ایک کو نام لے کر جھوٹا نہیں کہا گیا، بلکہ دونوں کو آخرت اور توبہ کی طرف متوجہ کیا گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کے بعد میاں بیوی میں جدائی کر دی۔
  • حقیقت کا کامل علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
  • جھوٹ کی صورت میں توبہ کی طرف بلایا گیا۔
  • ظاہری فیصلہ ہو جانے کے بعد بھی دل کی سچائی اللہ کے سامنے ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں