صحیح مسلم حدیث ۳۷۴۸ - لعان کے بعد مہر واپس نہیں
لعان کے بعد مہر کا حکم: لا مال لک کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۷۴۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۴۸
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى ، قَالَ يَحْيَي : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ ، أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ لَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَالِي ؟ قَالَ : " لَا مَالَ لَكَ ، إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا ، فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا ، وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا ، فَذَاكَ أَبْعَدُ لَكَ مِنْهَا " . قَالَ زُهَيْرٌ فِي رِوَايَتِهِ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لعان کرنے والوں کو، ”دونوں کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے تم میں سے ایک جھوٹا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاوند سے فرمایا: ”اب تیرا کوئی بس عورت پر نہیں کیونکہ وہ تجھ سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئی۔“ مرد بولا: میرا مال یا رسول اللہ! جو اس نے لیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مال تجھ کو نہیں ملے گا کیونکہ اگر تو سچا ہے تو مال کا بدلہ ہے جو اس کی فرج تجھ پر حلال ہو گئی اور اگر تو جھوٹا ہے تو مال اور دور ہو گیا۔“ (بلکہ تیرے اوپر اور وبال ہوا جھوٹ کا)۔
صحیح مسلم حدیث ۳۷۴۸ کا خلاصہ
یہ حدیث لعان کے بعد مہر اور اختیار کے مسئلے کو بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والے دونوں افراد سے فرمایا کہ تم دونوں کا حساب اللہ پر ہے، تم میں سے ایک جھوٹا ہے۔ پھر شوہر سے فرمایا کہ اب تیرا اس عورت پر کوئی راستہ نہیں، یعنی لعان کے بعد وہ اس کے اختیار میں نہیں رہی۔ شوہر نے اپنے مال کا سوال کیا، یعنی جو مال اس نے دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں مال نہیں ملے گا۔ اگر تم سچے ہو تو وہ مال اس کے بدلے ہے جو وہ تمہارے لیے حلال ہوئی تھی، اور اگر تم جھوٹے ہو تو پھر مال کا واپس ملنا اور بھی دور ہے۔ یہ حدیث لعان کے بعد مہر، صداق الملاعنة، اور لا سبیل لک علیھا جیسے موضوعات کے لیے اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- لعان کے بعد حقیقت کا کامل حساب اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔
- لعان کے بعد شوہر کا عورت پر اختیار باقی نہیں رہتا۔
- شوہر کو دیا ہوا مال واپس نہیں ملتا، جیسا کہ حدیث میں بیان ہوا۔
- جھوٹے الزام کا معاملہ اللہ کے ہاں بہت سنگین ہے۔
