صحیح مسلم حدیث ۳۷۴۷ - متلاعنین کی جدائی کا حکم
متلاعنین کا حکم: لعان کے بعد جدائی کی روایت
صحیح مسلم : ۳۷۴۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۴۷
وحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، قَالَ : سُئِلْتُ عَنِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ زَمَنَ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، فَلَمْ أَدْرِ مَا أَقُولُ ، فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، فَقُلْتُ : أَرَأَيْتَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا ؟ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ .
اس سند سے بھی مندرجہ بالا روایت نقل کی گئی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۷۴۷ کا خلاصہ
یہ روایت اسی واقعہ کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے جو لعان کے مسئلے میں بہت اہم ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے مصعب بن زبیر کے زمانے میں متلاعنین، یعنی لعان کرنے والے میاں بیوی، کے بارے میں پوچھا گیا۔ انہیں فوری جواب معلوم نہ ہوا تو وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا لعان کرنے والوں میں جدائی کی جائے گی۔ پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے وہی مضمون بیان کیا جو پچھلی حدیث میں آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لعان ہوا، آیات لعان کا حکم پڑھا گیا، دونوں فریقوں کو نصیحت کی گئی، پھر گواہیوں کے بعد جدائی کر دی گئی۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کے مسئلے میں اندازے سے جواب نہیں دینا چاہیے، بلکہ اہل علم سے پوچھ کر بات کرنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے لاعلمی میں جواب دینے کے بجائے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا۔
- لعان کرنے والے میاں بیوی کے درمیان جدائی کا حکم بیان ہوا۔
- دینی مسئلے میں علم والے سے رجوع کرنا اچھا طریقہ ہے۔
- یہ روایت پچھلے واقعے کی تائید کرتی ہے۔
