صحیح مسلم حدیث ۳۷۴۶ - آیت لعان اور عذاب آخرت کی یاددہانی

آیت لعان کی حدیث: پانچ گواہیاں اور میاں بیوی کی جدائی

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۴۶

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : سُئِلْتُ عَنِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ فِي إِمْرَةِ مُصْعَبٍ ، أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا ؟ قَالَ : فَمَا دَرَيْتُ مَا أَقُولُ ، فَمَضَيْتُ إِلَى مَنْزِلِ ابْنِ عُمَرَ بِمَكَّةَ ، فَقُلْتُ لِلْغُلَامِ : اسْتَأْذِنْ لِي ، قَالَ : إِنَّهُ قَائِلٌ فَسَمِعَ صَوْتِي ، قَالَ ابْنُ جُبَيْرٍ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : ادْخُلْ فَوَاللَّهِ مَا جَاءَ بِكَ هَذِهِ السَّاعَةَ إِلَّا حَاجَةٌ ، فَدَخَلْتُ ، فَإِذَا هُوَ مُفْتَرِشٌ بَرْذَعَةً مُتَوَسِّدٌ وِسَادَةً حَشْوُهَا لِيفٌ ، قُلْتُ : أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُتَلَاعِنَانِ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا ؟ قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، نَعَمْ ، إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ أَنْ لَوْ وَجَدَ أَحَدُنَا امْرَأَتَهُ عَلَى فَاحِشَةٍ ، كَيْفَ يَصْنَعُ إِنْ تَكَلَّمَ تَكَلَّمَ بِأَمْرٍ عَظِيمٍ ، وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ ؟ قَالَ : فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يُجِبْهُ ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَتَاهُ ، فَقَالَ : إِنَّ الَّذِي سَأَلْتُكَ عَنْهُ قَدِ ابْتُلِيتُ بِهِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ فِي سُورَةِ النُّورِ : وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ سورة النور آية 6 ، " فَتَلَاهُنَّ عَلَيْهِ وَوَعَظَهُ وَذَكَّرَهُ وَأَخْبَرَهُ : " أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ " ، قَالَ : لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا كَذَبْتُ عَلَيْهَا ، ثُمَّ دَعَاهَا فَوَعَظَهَا وَذَكَّرَهَا ، وَأَخْبَرَهَا : " أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ " ، قَالَتْ : لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنَّهُ لَكَاذِبٌ ، فَبَدَأَ بِالرَّجُلِ ، فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ ، ثُمَّ ثَنَّى بِالْمَرْأَةِ ، فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ ، إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ ، ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا " .

سعید بن جبیر روایت:

مجھ سے پوچھا گیا لعان کرنے والوں کا مسئلہ مصعب بن زیبر کی خلافت میں۔ میں حیران ہوا کیا جواب دوں تو میں چلا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے مکان کی طرف مکہ میں اور ان کے غلام سے کہا: میری عرض کرو۔ اس نے کہا: وہ آرام کرتے ہیں۔ انہوں نے میری آواز سنی اور کہا: کیا مبیر کا بیٹا ہے؟ میں نے کہا: ہاں انہوں نے کہا: اندر آ قسم اللہ کی تو کسی کام سے آیا ہو گا، میں اندر گیا تو وہ ایک کمبل بچھائے بیٹھے تھے اور ایک تکیے پر ٹیکا لگائے تھے جو چھال سے کھجور کی بھرا ہوا تھا، میں کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! لعان کرنے والوں میں جدائی کی جائے گی؟انہوں نے کہا: سبحان اللہ! بے شک جدائی کی جائے گی اور سب سے پہلے اس باب میں فلاں نے پوچھا جو فلاں کا بیٹا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کیا سمجھتے ہیں اگر ہم سے کوئی اپنی عورت کو برا کام کراتے دیکھے تو کیا کرے اگر منہ سے نکالے تو بری بات نکالے گا اگر چپ رہے تو ایسی بری بات سے کیونکر چپ رہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر چپ ہو رہے اور جواب نہیں دیا۔پھر وہ شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! جو بات میں نے آپ سے پوچھتی تھی میں خود اس میں پڑ گیا تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں اتاریں سورہ نور میں «‏‏‏‏وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ» (۲۴: النور: ۶-۹) آخر تک۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیتیں مرد کو پڑھ کر سنائیں اور اس کو نصیحت کی اور سمجھایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے آسان ہے یعنی اگر جھوٹ طوفان باندھتا ہے تو اب بھی بول دے حد قذف کے اسی کوڑے پڑ جائیں گے مگر یہ جہنم میں جلنے سے آسان ہے، وہ بولا: نہیں قسم اس کی جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ بھیجا میں نے عورت پر طوفان نہیں جوڑا۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو بلا لیا اور اس کو ڈرایا اور سمجھایا اور فرما دیا دنیا کا عذاب سہل ہے آخرت کے عذاب سے، وہ بولی: نہیں۔ قسم اس کی جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ بھیجا ہے میرا خاوند جھوٹ بولتا ہے تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع کیا مرد سے اور اس نے چار گواہیاں دیں اللہ تعالیٰ کے نام کی مقرر وہ سچا ہے اور پانچویں بار میں یہ کہا کہ اللہ کی پھٹکار ہو اس پر اگر وہ جھوٹا ہو پھر عورت کو بلایا اس نے چار گواہیاں دیں اللہ تعالیٰ کے نام کی؟ مرد جھوٹا ہے اور پانچویں بار میں یہ کہا: اللہ کا غضب اترے اس پر اگر وہ سچا ہو اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جدائی کر دی ان دونوں میں۔

صحیح مسلم حدیث ۳۷۴۶ کا خلاصہ

یہ حدیث لعان کی تفصیل کو بہت صاف انداز میں بیان کرتی ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے لعان کرنے والوں کے بارے میں پوچھا گیا تو وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس گئے۔ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ معاملہ آیا، پھر سورہ نور کی آیات نازل ہوئیں جن میں بیوی پر الزام لگانے والے شوہر کے لیے خاص طریقہ بیان ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے مرد کو نصیحت کی اور بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے آسان ہے۔ پھر عورت کو بھی نصیحت کی۔ مرد نے چار گواہیاں دیں کہ وہ سچا ہے اور پانچویں میں اللہ کی لعنت اپنے اوپر رکھی اگر وہ جھوٹا ہو۔ عورت نے چار گواہیاں دیں کہ مرد جھوٹا ہے اور پانچویں میں اللہ کا غضب اپنے اوپر رکھا اگر مرد سچا ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں میں جدائی کر دی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • لعان سے پہلے دونوں فریقوں کو نصیحت اور آخرت کی یاددہانی کرائی گئی۔
  • شوہر اور بیوی دونوں کے لیے گواہیوں کا مخصوص طریقہ بیان ہوا۔
  • پانچویں گواہی میں جھوٹ کی صورت میں سخت الفاظ آئے ہیں۔
  • لعان کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں میں جدائی کر دی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں