صحیح بخاری حدیث ۲۱۱۶ - زمین کی بیع اور جدا ہونا
زمین کی خرید و فروخت: جدا ہونے تک اختیار کی عملی مثال
صحیح بخاری : ۲۱۱۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۱۶
قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : وَقَالَ اللَّيْثُ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بِعْتُ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، مَالًا بِالْوَادِي بِمَالٍ لَهُ بِخَيْبَرَ ، فَلَمَّا تَبَايَعْنَا ، رَجَعْتُ عَلَى عَقِبِي حَتَّى خَرَجْتُ مِنْ بَيْتِهِ خَشْيَةَ أَنْ يُرَادَّنِي الْبَيْعَ ، وَكَانَتِ السُّنَّةُ : أَنَّ الْمُتَبَايِعَيْنِ بِالْخِيَارِ حَتَّى يَتَفَرَّقَا ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَلَمَّا وَجَبَ بَيْعِي وَبَيْعُهُ رَأَيْتُ أَنِّي قَدْ غَبَنْتُهُ بِأَنِّي سُقْتُهُ إِلَى أَرْضِ ثَمُودَ بِثَلَاثِ لَيَالٍ ، وَسَاقَنِي إِلَى الْمَدِينَةِ بِثَلَاثِ لَيَالٍ .
عبداللہ بن عمر روایت:
میں نے امیرالمؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ کو اپنی وادی قریٰ کی زمین، ان کی خیبر کی زمین کے بدلے میں بیچی تھی۔ پھر جب ہم نے بیع کر لی تو میں الٹے پاؤں ان کے گھر سے اس خیال سے باہر نکل گیا کہ کہیں وہ بیع فسخ نہ کر دیں۔ کیونکہ شریعت کا قاعدہ یہ تھا کہ بیچنے اور خریدنے والے کو (بیع توڑنے کا) اختیار اس وقت تک رہتا ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں۔عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب ہماری خرید و فروخت پوری ہو گئی اور میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو نقصان پہنچایا ہے کیونکہ (اس تبادلہ کے نتیجے میں، میں نے ان کی پہلی زمین سے) انہیں تین دن کے سفر کی دوری پر ثمود کی زمین کی طرف دھکیل دیا تھا اور انہوں نے مجھے (میری مسافت کم کر کے) مدینہ سے صرف تین دن کے سفر کی دوری پر لا چھوڑا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۱۶ کا خلاصہ
اس روایت میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ انہوں نے امیرالمؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ کو اپنی وادی قریٰ کی زمین، ان کی خیبر کی زمین کے بدلے میں بیچی۔ جب بیع ہو گئی تو وہ الٹے پاؤں ان کے گھر سے نکل گئے، اس خیال سے کہ کہیں بیع فسخ نہ ہو جائے۔ پھر خود بیان کیا کہ شریعت کا قاعدہ یہ تھا کہ بیچنے اور خریدنے والے کو اختیار اس وقت تک رہتا ہے جب تک وہ جدا نہ ہو جائیں۔ بعد میں انہوں نے غور کیا کہ اس معاملے میں عثمان رضی اللہ عنہ کو زیادہ دوری کا سامنا ہوا اور خود انہیں مدینہ سے تین دن کے سفر کی قربت مل گئی۔ اس حدیث کا موضوع زمین کی بیع، بیع خیار، جدا ہونا اور لین دین کا اختیار ہے۔ اس میں قاعدے کی عملی سمجھ ملتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیع میں جدا ہونے تک اختیار کا قاعدہ بیان ہوا ہے۔
- زمین کے تبادلے میں بھی بیع کے اصول لاگو ہوتے ہیں۔
- معاملہ مکمل ہونے کے بعد آدمی اپنے فائدے اور دوسرے کے نقصان پر غور کر سکتا ہے۔
- خرید و فروخت میں جدا ہونا معاملے کو لازم کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔
