صحیح بخاری حدیث ۲۱۱۵ - اونٹ کی خرید اور عطیہ

اونٹ کی خرید و ہبہ کی حدیث: بیع کے بعد عطیہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۱۵

وَقَالَ لَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَكُنْتُ عَلَى بَكْرٍ صَعْبٍ لِعُمَرَ ، فَكَانَ يَغْلِبُنِي ، فَيَتَقَدَّمُ أَمَامَ الْقَوْمِ فَيَزْجُرُهُ عُمَرُ ، وَيَرُدُّهُ ، ثُمَّ يَتَقَدَّمُ فَيَزْجُرُهُ عُمَرُ ، وَيَرُدُّهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لِعُمَرَ : بِعْنِيهِ ، قَالَ : هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : بِعْنِيهِ ، فَبَاعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هُوَ لَكَ يَاعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، تَصْنَعُ بِهِ مَا شِئْتَ " .‏

ابن عمر روایت:

ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ میں عمر رضی اللہ عنہ کے ایک نئے اور سرکش اونٹ پر سوار تھا۔ اکثر وہ مجھے مغلوب کر کے سب سے آگے نکل جاتا، لیکن عمر رضی اللہ عنہ اسے ڈانٹ کر پیچھے واپس کر دیتے۔ وہ پھر آگے بڑھ جاتا۔آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ یہ اونٹ مجھے بیچ ڈال۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ! یہ تو آپ ہی کا ہے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں مجھے یہ اونٹ دیدے۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ اونٹ بیچ ڈالا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عبداللہ بن عمر! اب یہ اونٹ تیرا ہو گیا جس طرح تو چاہے اسے استعمال کر۔

صحیح بخاری حدیث ۲۱۱۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں ایک سفر کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عمر رضی اللہ عنہ کے ایک نئے اور سرکش اونٹ پر سوار تھے۔ اونٹ بار بار آگے نکل جاتا، عمر رضی اللہ عنہ اسے ڈانٹ کر واپس کرتے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ یہ اونٹ مجھے بیچ دو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ تو آپ ہی کا ہے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ بیچنے کی بات فرمائی۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اونٹ بیچ دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ اب یہ اونٹ تمہارا ہے، جیسے چاہو استعمال کرو۔ اس حدیث کا موضوع خرید و فروخت، بیع کے بعد عطیہ اور ملکیت کا انتقال ہے۔ متن سے یہی بات نکلتی ہے کہ پہلے بیع ہوئی، پھر عطیہ دیا گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ لینے کے لیے بیع کا طریقہ اختیار فرمایا۔
  • بیع کے بعد چیز کسی کو عطیہ کی جا سکتی ہے۔
  • ملکیت منتقل ہونے کے بعد استعمال کا حق واضح کیا گیا۔
  • معاملات میں صاف الفاظ استعمال کرنا بہتر ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں