صحیح بخاری حدیث ۲۱۱۴ - جھوٹ سے بیع کی برکت ختم
تجارت میں سچائی کی حدیث: جھوٹا نفع برکت نہیں لاتا
صحیح بخاری : ۲۱۱۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۱۴
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا " ، قَالَ هَمَّامٌ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِي : يَخْتَارُ ثَلَاثَ مِرَارٍ ، فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا ، وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا ، فَعَسَى أَنْ يَرْبَحَا رِبْحًا وَيُمْحَقَا بَرَكَةَ بَيْعِهِمَا . قَالَ : وَحَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ ، يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
حکیم بن حزام روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، بیچنے اور خریدنے والے کو جب تک وہ جدا نہ ہوں (بیع توڑ دینے کا) اختیار ہے۔ ہمام راوی نے کہا کہ میں نے اپنی کتاب میں لفظ «يختار» تین مرتبہ لکھا ہوا پایا۔ پس اگر دونوں نے سچائی اختیار کی اور بات صاف صاف واضح کر دی تو انہیں ان کی بیع میں برکت ملتی ہے اور اگر انہوں نے جھوٹی باتیں بنائیں اور (کسی عیب کو) چھپایا تو تھوڑا سا نفع شاید وہ کما لیں، لیکن ان کی بیع میں برکت نہیں ہو گی۔حبان نے) کہا کہ ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے ابوالتیاح نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن حارث سے سنا کہ یہی حدیث وہ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے بحوالہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روایت کرتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۱۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں خرید و فروخت کے اختیار کے ساتھ تجارت کی دیانت بھی بیان ہوئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیچنے اور خریدنے والے کو جدا ہونے تک اختیار ہے۔ پھر فرمایا کہ اگر دونوں نے سچائی اختیار کی اور بات صاف صاف واضح کر دی تو انہیں اپنی بیع میں برکت ملتی ہے۔ اگر انہوں نے جھوٹی باتیں بنائیں اور کسی عیب کو چھپایا تو شاید تھوڑا سا نفع کما لیں، لیکن بیع کی برکت نہیں رہے گی۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع تجارت میں سچائی، عیب بیان کرنا، جھوٹ سے بچنا اور بیع کی برکت ہے۔ اس میں بہت عملی بات ہے کہ ظاہری فائدہ سب کچھ نہیں۔ دکان، کاروبار، سودا اور لین دین میں اصل خوبی سچ اور صاف بیان ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خرید و فروخت میں جدا ہونے تک اختیار ہے۔
- سچ بولنے اور وضاحت کرنے سے بیع میں برکت کا ذکر ہے۔
- جھوٹ اور عیب چھپانے سے برکت ختم ہو جاتی ہے۔
- صرف تھوڑا نفع کمانا برکت کا بدل نہیں بن سکتا۔
