صحیح بخاری حدیث ۲۱۱۳ - جدا ہونے سے پہلے بیع
جدا ہونے تک بیع پختہ نہیں: بیع خیار کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۱۱۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۱۳
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كُلُّ بَيِّعَيْنِ لَا بَيْعَ بَيْنَهُمَا حَتَّى يَتَفَرَّقَا ، إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ " .
ابن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کسی بھی خریدنے اور بیچنے والے میں اس وقت تک بیع پختہ نہیں ہوتی جب تک وہ دونوں جدا نہ ہو جائیں۔ البتہ وہ بیع جس میں مشترکہ اختیار کی شرط لگا دی گئی ہو اس سے الگ ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۱۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی بھی خریدنے اور بیچنے والے میں اس وقت تک بیع پختہ نہیں ہوتی جب تک وہ دونوں جدا نہ ہو جائیں۔ البتہ وہ بیع الگ ہے جس میں مشترکہ اختیار کی شرط لگا دی گئی ہو۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع بیع خیار اور سودا پختہ ہونے کا وقت ہے۔ اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ خرید و فروخت محض بول دینے سے ہر صورت ختم نہیں سمجھی گئی، بلکہ جدا ہونے تک ایک خاص اختیار باقی رہتا ہے۔ اگر پہلے سے اختیار کی شرط ہو تو وہ الگ صورت ہے۔ خریدار، بیچنے والا، سودا، بیع، اختیار کی شرط اور جدا ہونا اس حدیث کے اہم الفاظ ہیں۔ اس روایت کا پیغام سادہ ہے: لین دین میں جلد بازی کے بجائے واضح حد اور اختیار کا لحاظ رکھا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیع جدا ہونے تک پختہ نہ ہونے کا بیان آیا ہے۔
- مشترکہ اختیار کی شرط والی بیع اس سے الگ ہے۔
- خرید و فروخت میں وقت اور جگہ کی حالت اثر رکھتی ہے۔
- سودے میں فریقین کے اختیار کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔
