صحیح مسلم حدیث ۴۰۷۸ - سونے کے بدلے سونا برابر وزن سے
سونا سونے کے بدلے: وزن برابر رکھنا ضروری
صحیح مسلم : ۴۰۷۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۰۷۸
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ الْجُلَاحِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي حَنَشٌ الصَّنْعَانِيُّ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ : " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ نُبَايِعُ الْيَهُودَ الْوُقِيَّةَ الذَّهَبَ بِالدِّينَارَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ " .
فضالہ بن عبید روایت:
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے خیبر کے دن اور یہودیوں سے معاملہ کرتے تھے ایک اوقیہ (چالیس درہم) سونے کا دو یا تین دیناروں کے بدل تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مت بیچو سونا سونے کے بدلے مگر تول کر (برابر برابر)۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۰۷۸ کا خلاصہ
یہ روایت خیبر کے دن کے ایک معاملے کو بیان کرتی ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم یہودیوں سے لین دین کرتے تھے، اور ایک اوقیہ سونا دو یا تین دینار کے بدلے بیچا جاتا تھا۔ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سونا سونے کے بدلے نہ بیچو مگر وزنًا بوزن، یعنی برابر وزن سے۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ سونا جب سونے کے بدلے آئے تو قیمت کے اندازے یا ظاہری فرق پر معاملہ نہیں چھوڑا جائے گا، بلکہ وزن کو معیار بنایا جائے گا۔ روایت میں دوسری چیزوں کا ذکر نہیں، اس لیے بات سونے کی بیع تک رکھی جائے گی۔ عام فہم انداز میں یہ حکم تجارت کو صاف بناتا ہے: سونا کے بدلے سونا ہو تو وزن برابر، تاکہ زیادتی ربا میں داخل نہ ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سونے کے بدلے سونا برابر وزن سے بیچا جائے۔
- قیمت کے اندازے کے بجائے وزن کو واضح معیار بنایا گیا۔
- حدیث خاص طور پر سونے کے معاملے کو بیان کرتی ہے۔
- خرید و فروخت میں ربا سے بچنے کے لیے احتیاط ضروری ہے۔
