صحیح مسلم حدیث ۴۰۷۹ - سونے کے تبادلے میں برابر برابر لینے کا حکم
جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے: سونے کی بیع میں برابری
صحیح مسلم : ۴۰۷۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۰۷۹
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُعَافِرِيِّ وَعَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، وَغَيْرِهِمَا ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ يَحْيَى الْمُعَافِرِيَّ ، أَخْبَرَهُمْ ، عَنْ حَنَشٍ : أَنَّهُ قَالَ : " كُنَّا مَعَ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ فِي غَزْوَةٍ فَطَارَتْ لِي وَلِأَصْحَابِي قِلَادَةٌ فِيهَا ذَهَبٌ وَوَرِقٌ وَجَوْهَرٌ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَهَا ، فَسَأَلْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ، فَقَالَ : انْزِعْ ذَهَبَهَا فَاجْعَلْهُ فِي كِفَّةٍ وَاجْعَلْ ذَهَبَكَ فِي كِفَّةٍ ثُمَّ لَا تَأْخُذَنَّ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَأْخُذَنَّ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ " .
حنش روایت:
میں فضالہ بن عبید کے ساتھ تھا ایک جہاد میں تو میرے اور میرے یاروں کے حصے میں ایک ہار آیا جس میں سونا اور چاندی اور جواہر سب تھے، میں نے اس کو خریدنا چاہا اور فضالہ سے پوچھا، انہوں نے کہا: اس کا سونا جدا کر کے ایک پلڑے میں رکھ اور اپنا اور اپنا سونا ایک پلڑے میں پھر نہ لے مگر برابر برابر کیونکہ میں نے سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماتے تھے: ”جو شخص ایمان رکھتا ہے اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر وہ نہ لے مگر برابر برابر۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۰۷۹ کا خلاصہ
یہ حدیث سونے کے معاملے کو ایمان اور آخرت کی یاد کے ساتھ جوڑتی ہے۔ حنش بیان کرتے ہیں کہ ایک جہاد میں ان کے حصے میں ایسا ہار آیا جس میں سونا، چاندی اور جواہر تھے۔ انہوں نے خریدنے کا ارادہ کیا تو سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس کا سونا الگ کرو، ایک پلڑے میں رکھو، اپنا سونا دوسرے پلڑے میں رکھو، پھر برابر برابر ہی لو۔ پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سنایا کہ جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ مثلًا بمثل ہی لے۔ اس حدیث کا پیغام بہت صاف ہے: مالی معاملہ صرف حساب کتاب نہیں، دینی ذمہ داری بھی ہے۔ سونے کے تبادلے میں برابری، وزن کی وضاحت اور چھپی ہوئی زیادتی سے بچنا ایمان والے آدمی کے شایان شان ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سونا ملا ہو تو اسے الگ کر کے وزن واضح کیا جائے۔
- سونے کے بدلے سونا برابر برابر ہی لیا جائے۔
- حدیث میں اللہ اور آخرت پر ایمان کا ذکر کر کے تاکید کی گئی ہے۔
- مالی معاملے میں دینی احتیاط بھی ضروری ہے۔
