صحیح مسلم حدیث ۴۰۸۰ - اناج کے بدلے اناج برابر بیچو
اناج کے بدلے اناج: برابر مقدار اور احتیاط کی حدیث
صحیح مسلم : ۴۰۸۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۰۸۰
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ ، أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ " أَنَّهُ أَرْسَلَ غُلَامَهُ بِصَاعِ قَمْحٍ ، فَقَالَ : بِعْهُ ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ شَعِيرًا ، فَذَهَبَ الْغُلَامُ ، فَأَخَذَ صَاعًا وَزِيَادَةَ بَعْضِ صَاعٍ ، فَلَمَّا جَاءَ مَعْمَرًا أَخْبَرَهُ بِذَلِكَ ، فَقَالَ لَهُ مَعْمَرٌ : لِمَ فَعَلْتَ ذَلِكَ انْطَلِقْ فَرُدَّهُ وَلَا تَأْخُذَنَّ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ ، فَإِنِّي كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : الطَّعَامُ بِالطَّعَامِ مِثْلًا بِمِثْلٍ ، قَالَ : وَكَانَ طَعَامُنَا يَوْمَئِذٍ الشَّعِيرَ ، قِيلَ لَهُ : فَإِنَّهُ لَيْسَ بِمِثْلِهِ ، قَالَ : إِنِّي أَخَافُ أَنْ يُضَارِعَ " .
معمر بن عبداللہ روایت:
معمر بن عبداللہ سے روایت ہے، انہوں نے اپنے غلام کو ایک صاع گیہوں کا دے کر بھیجا اور کہا: اس کو بیچ کر جو لےکر آ۔ وہ غلا لے گر گیا اور ایک صاع اور کچھ زیادہ جو لیے۔ جب معمر کے پاس آیا اور ان کو خبر کی تو معمر نے کہا تو نے ایسا کیوں کیا جا اور واپس کر آ اور اور مت لے مگر برابر برابر کیونکہ میں نے سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماتے تھے: ”اناج بدلے اناج کے برابر بیچو۔“ اور ان دونوں ہمارا اناج جو تھا۔ لوگوں نے کہا: جو گیہوں میں فرق نہیں کرتا (تو کمی بیشی جائز ہے) انہو نے کہا: مجھے ڈر ہے کہیں دونوں ایک جنس کا حکم رکھتے ہوں۔
صحیح مسلم حدیث ۴۰۸۰ کا خلاصہ
یہ حدیث اناج کی بیع میں احتیاط کا اچھا نمونہ دکھاتی ہے۔ معمر بن عبداللہ نے اپنے غلام کو ایک صاع گیہوں دے کر جو خریدنے بھیجا۔ غلام ایک صاع سے کچھ زیادہ جو لے آیا۔ معمر نے پوچھا کہ ایسا کیوں کیا، پھر کہا کہ اسے واپس کرو اور صرف مثلًا بمثل لو، کیونکہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ اناج اناج کے بدلے برابر بیچو۔ لوگوں نے کہا کہ جو اور گیہوں ایک جیسے نہیں، مگر معمر نے فرمایا کہ مجھے ڈر ہے کہیں دونوں ایک جنس کے حکم کے قریب نہ ہوں۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ جب معاملہ مشتبہ لگے تو آدمی دینی احتیاط اختیار کرے۔ یہاں زیادہ فائدہ مل رہا تھا، مگر انہوں نے اسے واپس کرنے کا حکم دیا تاکہ ربا کے شبہے سے بچا جا سکے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اناج کے بدلے اناج میں برابری کا حکم بیان ہوا ہے۔
- زیادہ ملنے پر بھی احتیاط کرتے ہوئے واپس کرنے کا کہا گیا۔
- مشکل یا مشتبہ معاملے میں احتیاط بہتر رویہ ہے۔
- حدیث میں غلام کے عمل کو درست کر کے اصول سمجھایا گیا۔
