صحیح مسلم حدیث ۴۰۸۱ - کھجور کی بیع میں برابری کا اصول
کھجور کی بیع میں سود سے بچنے کا آسان اصول
صحیح مسلم : ۴۰۸۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۰۸۱
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَأَبَا سَعِيدٍ حَدَّثَاهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَخَا بَنِي عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيَّ ، فَاسْتَعْمَلَهُ عَلَى خَيْبَرَ ، فَقَدِمَ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا ، قَالَ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا لَنَشْتَرِي الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ مِنَ الْجَمْعِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَفْعَلُوا وَلَكِنْ مِثْلًا بِمِثْلٍ أَوْ بِيعُوا هَذَا وَاشْتَرُوا بِثَمَنِهِ مِنْ هَذَا وَكَذَلِكَ الْمِيزَانُ " .
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابوسعیدخدری روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عدی میں سے ایک شخص کو عامل کیا خیبر کا وہ جنیب (عمدہ قسم کی) کھجور لے کر آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا خیبر میں سب کھجور ایسی ہی ہوتی ہے۔“ وہ بولا: نہیں، قسم اللہ کی! یا رسول اللہ! ہم یہ کھجور ایک صاع جمع (خراب قسم کی کھجور) کے دو صاع دے کر خریدتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا مت کرو بلکہ برابر بیچو یا ایک کو بیچ کر اس کی قیمت کے بدل دوسری خرید لو اور ایسا ہی اگر تول کر بیچو تو بھی برابر برابر بیچو۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۰۸۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع سود اور کھجور کی بیع ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے خیبر سے لائی گئی عمدہ جنیب کھجور کے بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ اسے کم معیار جمع کھجور کے دو صاع دے کر ایک صاع لیا جاتا ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے صاف فرمایا کہ ایسا نہ کرو۔ اس سے بات آسان ہو جاتی ہے کہ ایک ہی جنس کی چیز، جیسے کھجور بدلے کھجور، میں کمی بیشی کا معاملہ درست نہیں۔ صحیح طریقہ یہ بتایا گیا کہ یا تو برابر برابر بدلو، یا پہلے اپنی کھجور بیچو، پھر اس کی قیمت سے اچھی کھجور خرید لو۔ یہی حلال تجارت اور سود سے بچنے کا سیدھا راستہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک ہی جنس کی کھجور بدلتے وقت مقدار برابر رکھی جائے۔
- اچھی چیز لینے کے لیے غلط تبادلہ نہیں، الگ بیع اختیار کی جائے۔
- تول یا ناپ والی چیزوں میں برابری کا خیال رکھا جائے۔
