صحیح مسلم حدیث ۴۰۸۲ - جنیب کھجور خریدنے کا صحیح طریقہ
جنیب کھجور اور جمع کھجور کے تبادلے کا حکم
صحیح مسلم : ۴۰۸۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۰۸۲
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَى خَيْبَرَ ، فَجَاءَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا ، فَقَالَ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلَاثَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَلَا تَفْعَلْ بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا " .
سیدنا ابوسعید خدری روایت:
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے ایسی ہی روایت ہے جیسے اوپر گزری اس میں یہ ہے کہ ہم ایک صاع اس کے دو صاع کے بدلے اور دو صاع تین کے بدلے لیتے ہیں تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا مت کرو جمع کو، روپیوں کے بدلے بیچ، پھر روپیوں سے جنیب خرید کر لے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۰۸۲ کا خلاصہ
اس روایت میں بھی سود سے بچنے کا وہی سادہ اصول بتایا گیا ہے۔ خیبر کے عامل عمدہ جنیب کھجور لائے تو پوچھنے پر بتایا کہ وہ ایک صاع کے بدلے دو صاع، اور دو صاع کے بدلے تین صاع جمع کھجور دیتے ہیں۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو، بلکہ جمع کھجور کو درہم کے بدلے بیچو، پھر انہی درہم سے جنیب خریدو۔ اس میں حلال خرید و فروخت کا صاف طریقہ سامنے آتا ہے۔ مقصد یہ نہیں کہ اچھی چیز خریدنا منع ہے، بلکہ ایک ہی جنس کی کھجور میں کمی بیشی کے ساتھ براہ راست تبادلہ منع کیا گیا ہے۔ الگ بیع سے معاملہ صاف رہتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اچھی کھجور لینے کے لیے پہلے کم معیار کھجور کو قیمت پر بیچنا چاہیے۔
- ایک صاع کے بدلے دو صاع کا تبادلہ اس روایت میں منع کیا گیا۔
- درہم کے ذریعے الگ خریداری معاملے کو واضح کر دیتی ہے۔
