صحیح مسلم حدیث ۴۰۸۳ - دو صاع کے بدلے ایک صاع عین سود

دو صاع خراب کھجور دے کر ایک صاع اچھی کھجور لینا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۰۸۳

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ح ، وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُمَا جَمِيعًا ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ سَلَّامٍ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَبْدِ الْغَافِرِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ ، يَقُولُ : " جَاءَ بِلَالٌ بِتَمْرٍ بَرْنِيٍّ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مِنْ أَيْنَ هَذَا ؟ فَقَالَ بِلَالٌ : تَمْرٌ كَانَ عِنْدَنَا رَدِيءٌ ، فَبِعْتُ مِنْهُ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ لِمَطْعَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ عِنْدَ ذَلِكَ : أَوَّهْ عَيْنُ الرِّبَا لَا تَفْعَلْ وَلَكِنْ إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَشْتَرِيَ التَّمْرَ ، فَبِعْهُ بِبَيْعٍ آخَرَ ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ " ، لَمْ يَذْكُرْ ابْنُ سَهْلٍ فِي حَدِيثِهِ عِنْدَ ذَلِكَ .

سیدنا ابوسعید روایت:

سیدنا بلال رضی اللہ عنہ «برني» (ایک عمدہ قسم ہے) کھجور لے کر آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہاں سے لائے؟“ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے پاس خراب قسم کی کھجور تھی تو دو صاع اس کے دے کر میں نے ایک صاع اس کا آپ کے کھانے کے لیے خریدا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افسوس! یہ تو عین سود ہے ایسا مت کر لیکن جب تو کھجور خریدنا چاہے تو اپنی کھجور بیچ ڈال پھر اس کی قیمت کے بدلے دوسری کھجور خرید لے۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۰۸۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ برنی، یعنی عمدہ قسم کی کھجور لائے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے پوچھا کہ یہ کہاں سے آئی؟ انہوں نے بتایا کہ ہمارے پاس کم معیار کھجور تھی، اس کے دو صاع دے کر یہ ایک صاع خریدی تاکہ آپ صلى الله عليه وسلم کے کھانے کے لیے ہو۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے سخت الفاظ میں فرمایا کہ یہ عین سود ہے، ایسا نہ کرو۔ پھر آسان حل بتایا کہ جب اچھی کھجور خریدنی ہو تو پہلے اپنی کھجور الگ بیچو، پھر اس قیمت سے دوسری کھجور خرید لو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نیت اچھی ہو تب بھی معاملہ شرعی طریقے کے مطابق ہونا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اچھی نیت کے باوجود لین دین کا طریقہ درست ہونا ضروری ہے۔
  • ایک ہی جنس کی چیز میں کمی بیشی سود کا سبب بن سکتی ہے۔
  • درست راستہ الگ فروخت اور الگ خریداری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں