صحیح مسلم حدیث ۴۰۸۴ - عمدہ کھجور کے بدلے زائد کھجور دینا ربا

عمدہ کھجور خریدنے میں ربا سے کیسے بچیں

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۰۸۴

وحَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ الْبَاهِلِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ ، فَقَالَ : مَا هَذَا التَّمْرُ مِنْ تَمْرِنَا ؟ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِعْنَا تَمْرَنَا صَاعَيْنِ بِصَاعٍ مِنْ هَذَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ : هَذَا الرِّبَا فَرُدُّوهُ ثُمَّ بِيعُوا تَمْرَنَا وَاشْتَرُوا لَنَا مِنْ هَذَا " .

سیدنا ابوسعید روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجور آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کھجور ہماری کھجور سے بہت عمدہ ہے۔“ ایک شخص بولا: یا رسول اللہ! ہم نے اپنی کھجور کے دو صاع دے کر اس کے ایک صاع لیے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو «ربا» ہو گیا۔ اس کو پھیر دو اور پہلے ہماری کھجور بیچو پھر اس کی قیمت میں سے یہ کھجور ہمارے لیے خرید لو۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۰۸۴ کا خلاصہ

اس روایت میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس ایسی کھجور آئی جو عام کھجور سے بہتر تھی۔ جب بتایا گیا کہ اپنی کھجور کے دو صاع دے کر اس کا ایک صاع لیا گیا ہے تو آپ صلى الله عليه وسلم نے اسے ربا قرار دیا اور فرمایا کہ اسے واپس کرو۔ پھر طریقہ بتایا کہ پہلے ہماری کھجور بیچو، پھر اس کی قیمت سے یہ کھجور خرید لو۔ اس حدیث کا پیغام بہت عملی ہے: بازار میں معیار کا فرق ہو سکتا ہے، لیکن ایک ہی جنس کی چیز کو کمی بیشی کے ساتھ بدلنا درست نہیں۔ حلال تجارت میں معاملہ صاف، الگ اور قیمت کے ذریعے ہونا چاہیے تاکہ سود کا شبہ بھی نہ رہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • غلط تبادلہ ہو جائے تو اسے واپس کرنا چاہیے۔
  • معیار کا فرق ایک ہی جنس میں زیادتی کو جائز نہیں بناتا۔
  • قیمت کے ذریعے الگ خریداری سود سے بچنے کا طریقہ ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں