صحیح بخاری حدیث ۶۹۶۳ - بیع نجش کی ممانعت
بیع نجش کیا ہے؟ خرید و فروخت میں دھوکے سے بچیں
صحیح بخاری : ۶۹۶۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۶۳
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ النَّجْشِ " .
ابن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع نجش سے منع فرمایا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۹۶۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں خرید و فروخت کے ایک دھوکے سے منع کیا گیا ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع نجش سے منع فرمایا۔ بیع نجش کا تعلق بازار کے ایسے رویے سے ہے جس میں خریدنے کی نیت کے بغیر بولی بڑھا کر دوسرے خریدار کو متاثر کیا جاتا ہے۔ متن میں لفظ نجش آیا ہے اور حکم صاف ہے کہ اس سے منع فرمایا گیا۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع تجارت، بیع نجش، دھوکہ، قیمت بڑھانا اور بازار کی دیانت ہے۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ خرید و فروخت صرف نفع کمانے کا معاملہ نہیں، بلکہ اس میں سچائی اور صاف معاملہ بھی ضروری ہے۔ قیمت کو مصنوعی طریقے سے بڑھانا خریدار کے ساتھ بے انصافی بن سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع نجش سے منع فرمایا۔
- خرید و فروخت میں دھوکے والا طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔
- بازار میں قیمت کے معاملے میں دیانت ضروری ہے۔
