صحیح بخاری حدیث ۶۹۶۲ - زائد پانی روکنے کی ممانعت

زائد پانی نہ روکو: گھاس تک رسائی روکنے کا حیلہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۶۲

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ فَضْلُ الْكَلَإِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بچا ہوا بےضرورت پانی اس لیے نہ روکا جائے کہ اس کی وجہ سے بچی ہوئی گھاس بھی بچی رہے (اس میں بھی حیلہ سازی سے روکا گیا ہے)۔

صحیح بخاری حدیث ۶۹۶۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں پانی اور گھاس کے حق کا مسئلہ بیان ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بچا ہوا بے ضرورت پانی اس لیے نہ روکا جائے کہ اس کی وجہ سے بچی ہوئی گھاس بھی روکی جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر پانی روکنے سے دوسرے لوگ یا جانور گھاس تک نہیں پہنچ پاتے، تو پانی روکنا ایک طرح کا حیلہ بن جاتا ہے۔ اس روایت کا مرکزی موضوع زائد پانی، گھاس، حیلہ سازی، لوگوں کی ضرورت اور مشترک فائدہ ہے۔ متن میں بات بہت مختصر ہے مگر سماجی اثر بڑا ہے۔ پانی روکنے کا مقصد صرف پانی روکنا نہیں رہتا، بلکہ اس کے ذریعے گھاس سے فائدہ اٹھانے والوں کو بھی روکا جاتا ہے۔ اس لیے حدیث میں اس طریقے کو منع کیا گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • زائد پانی کو اس نیت سے نہیں روکنا چاہیے کہ گھاس بھی رک جائے۔
  • ضرورت سے زائد وسائل کو دوسروں کے لیے رکاوٹ بنانے سے منع کیا گیا۔
  • حیلہ کے ذریعے فائدہ روکنا درست رویہ نہیں۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں