صحیح بخاری حدیث ۶۹۶۱ - متعہ کی ممانعت
متعہ کی حدیث: خیبر کے دن ممانعت کا بیان
صحیح بخاری : ۶۹۶۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۶۱
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَعَبْدِ اللَّهِ ابني محمد بن علي ، عَنْ أَبِيهِمَا ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قِيلَ لَهُ : إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ " لَا يَرَى بِمُتْعَةِ النِّسَاءِ بَأْسًا ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا يَوْمَ خَيْبَرَ ، وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ " ، وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ : إِنِ احْتَالَ حَتَّى تَمَتَّعَ فَالنِّكَاحُ فَاسِدٌ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : النِّكَاحُ جَائِزٌ وَالشَّرْطُ بَاطِلٌ .
حسن اور عبداللہ بن محمد بن علی روایت:
علی رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما عورتوں کے متعہ میں کوئی حرج نہیں سمجھتے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی لڑائی کے موقع پر متعہ سے اور پالتو گدھوں کے گوشت سے منع کر دیا تھا اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر کسی نے حیلہ سے متعہ کر لیا تو نکاح فاسد ہے اور بعض لوگوں نے کہا کہ نکاح جائز ہو جائے گا اور میعاد کی شرط باطل ہو جائے گی۔
صحیح بخاری حدیث ۶۹۶۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع متعہ کی ممانعت ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما عورتوں کے متعہ میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن متعہ سے اور پالتو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا تھا۔ روایت میں پھر بعض لوگوں کے اقوال کا ذکر آیا ہے کہ اگر کوئی حیلہ کر کے متعہ کرے تو نکاح فاسد ہے، اور بعض کے نزدیک شرط باطل ہو گی۔ متن کا اصل حصہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ سے منع فرمایا۔ اس حدیث میں متعہ، نکاح، حیلہ، شرط اور خیبر کے دن کی ممانعت جیسے الفاظ اہم ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حضرت علی رضی اللہ عنہ نے متعہ کی ممانعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی۔
- روایت میں خیبر کے دن متعہ سے منع کیے جانے کا ذکر ہے۔
- نکاح کے معاملے میں حیلہ سازی کا ذکر بھی متن میں آیا ہے۔
