صحیح بخاری حدیث ۶۹۶۰ - نکاح شغار کی ممانعت

نکاح شغار کیا ہے؟ بغیر مہر تبادلے والے نکاح کی ممانعت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۶۰

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الشِّغَارِ " ، قُلْتُ لِنَافِعٍ : مَا الشِّغَارُ ؟ ، قَالَ : يَنْكِحُ ابْنَةَ الرَّجُلِ وَيُنْكِحُهُ ابْنَتَهُ بِغَيْرِ صَدَاقٍ ، وَيَنْكِحُ أُخْتَ الرَّجُلِ وَيُنْكِحُهُ أُخْتَهُ بِغَيْرِ صَدَاقٍ ، وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ : إِنِ احْتَالَ حَتَّى تَزَوَّجَ عَلَى الشِّغَارِ فَهُوَ جَائِزٌ ، وَالشَّرْطُ بَاطِلٌ ، وَقَالَ فِي الْمُتْعَةِ : النِّكَاحُ فَاسِدٌ وَالشَّرْطُ بَاطِلٌ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : الْمُتْعَةُ وَالشِّغَارُ جَائِزٌ ، وَالشَّرْطُ بَاطِلٌ .

عبداللہ بن مسعود روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا۔ میں نے نافع سے پوچھا شغار کیا ہے؟ انہوں نے کہا یہ کہ کوئی شخص بغیر مہر کسی کی لڑکی سے نکاح کرتا ہے یا اس سے بغیر مہر کے اپنی لڑکی کا نکاح کرتا ہے پس اس کے سوا کوئی مہر مقرر نہ ہو اور بعض لوگوں نے کہا اگر کسی نے حیلہ کر کے نکاح شغار کر لیا تو نکاح کا عقد درست ہو گا اور شرط لغو ہو گی (اور ہر ایک کو مہر مثل عورت کا ادا کرنا ہو گا) اور ہاں بعض لوگوں نے متعہ میں کہا ہے کہ وہاں نکاح بھی فاسد ہے اور شرط بھی باطل ہے اور بعض حنفیہ یہ کہتے ہیں کہ متعہ اور شغار دونوں جائز ہوں گے اور شرط باطل ہو گی۔

صحیح بخاری حدیث ۶۹۶۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں نکاح شغار کی ممانعت بیان ہوئی ہے۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا۔ جب نافع سے پوچھا گیا کہ شغار کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ کوئی شخص کسی کی لڑکی سے نکاح کرے اور بدلے میں اپنی لڑکی کا نکاح اس سے کرے، یا کسی کی بہن سے نکاح کرے اور اپنی بہن کا نکاح اس سے کرے، اور مہر مقرر نہ ہو۔ اس روایت میں نکاح شغار، مہر، حیلہ، نکاح کی شرط اور عورت کے حق کا مسئلہ آتا ہے۔ متن سے معلوم ہوتا ہے کہ نکاح کو ایک بدلے کے معاملے کی طرح بنا دینا، اور مہر کو نظر انداز کرنا، منع کیا گیا۔ حدیث کا زور اس بات پر ہے کہ نکاح میں عورت کا حق، خاص طور پر مہر، ختم نہ کیا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح شغار سے منع فرمایا۔
  • شغار میں مہر کو نظر انداز کیا جاتا ہے، اسی لیے اس کی ممانعت آئی۔
  • نکاح کو صرف تبادلے کا معاملہ بنانا درست نہیں۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں