صحیح بخاری حدیث ۲۱۶۰ - دوسرے کی بیع پر بیع اور نجش سے بچیں
دوسرے کی بیع پر بیع، نجش اور شہری دیہاتی کی بیع
صحیح بخاری : ۲۱۶۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۶۰
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَبْتَاعُ الْمَرْءُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ ، وَلَا تَنَاجَشُوا ، وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کوئی شخص اپنے کسی بھائی کے مول پر مول نہ کرے اور کوئی «نجش» (دھوکہ، فریب) نہ کرے، اور نہ کوئی شہری، کسی دیہاتی کے لیے بیچے یا مول لے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۶۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں سے منع فرمایا: کوئی شخص اپنے بھائی کے مول پر مول نہ کرے، نجش نہ کرے، اور کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے نہ بیچے یا مول نہ لے۔ اس میں بازار کے آداب بہت صاف انداز میں آتے ہیں۔ دوسرے کی بیع پر بیع کرنے سے دلوں میں رنجش پیدا ہو سکتی ہے اور معاملہ خراب ہو سکتا ہے۔ نجش میں دھوکے سے قیمت بڑھائی جاتی ہے۔ شہری کا دیہاتی کے لیے بیچنا بھی اسی بازار کے نظام سے متعلق ہے جس میں عام خریدار اور بیچنے والے متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس حدیث کا مقصد صاف، منصفانہ اور دھوکے سے پاک خرید و فروخت ہے۔ نجش، بیع پر بیع، شہری دیہاتی کی بیع اور اسلامی بازار کے آداب اہم سرچ الفاظ ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دوسرے کے سودے پر اپنا سودا نہیں کرنا چاہیے۔
- نجش یعنی دھوکے والی بولی منع ہے۔
- شہری کو دیہاتی کے لیے بیچنے سے منع کیا گیا۔
- بازار میں صاف، منصفانہ اور باوقار معاملہ ضروری ہے۔
