صحیح بخاری حدیث ۲۱۵۹ - شہری کا دیہاتی کا مال بیچنا منع
شہری دیہاتی کا مال نہ بیچے: بازار کے انصاف کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۱۵۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۵۹
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَبَّاحٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ " ، وَبِهِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی شہری، کسی دیہاتی کا مال بیچے۔ یہی ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی کہا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۵۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال بیچے۔ اسی بات کو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی بیان کیا۔ اس کا تعلق بازار کے ایک خاص معاملے سے ہے، جہاں دیہاتی اپنا سامان لے کر آتا ہے اور شہری اس کے لیے بیچنے کا کردار سنبھال لیتا ہے۔ حدیث کے الفاظ ہمیں اس اصول کی طرف لے جاتے ہیں کہ بازار میں عام لوگوں کو بھی خریدنے کا موقع ملے اور قیمتیں مصنوعی طریقے سے قابو نہ کی جائیں۔ اس روایت کو اس کے متن کی حد میں سمجھنا چاہیے۔ شہری دیہاتی کی بیع، لا يبيع حاضر لباد، بازار کا انصاف اور اسلامی تجارت کے اصول اہم سرچ الفاظ ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شہری کو دیہاتی کا مال بیچنے سے منع کیا گیا۔
- بازار کے معاملات میں غیر ضروری دخل سے بچنا چاہیے۔
- قیمت اور رسائی کے معاملے میں عام لوگوں کا فائدہ بھی دیکھا گیا۔
- تجارت میں صاف اور کھلا نظام مطلوب ہے۔
