صحیح بخاری حدیث ۲۱۶۱ - شہری کا دیہاتی کے لیے بیچنا

حاضر لباد حدیث: شہری دیہاتی کا مال نہ بیچے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۶۱

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " نُهِينَا أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ " .

انس بن مالک روایت:

ہمیں اس سے روکا گیا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال تجارت بیچے۔

صحیح بخاری حدیث ۲۱۶۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع خرید و فروخت میں سادگی اور بازار کے معاملے کو فطری انداز پر چھوڑنا ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں اس بات سے روکا گیا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال تجارت بیچے۔ آسان الفاظ میں، حاضر لباد حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ شہری آدمی دیہاتی کے سامان کا بیچنے والا یا معاملہ سنبھالنے والا نہ بنے۔ اس میں دیہاتی مال، شہری دلالی، بیع و تجارت اور بازار کے آداب کا پہلو آتا ہے۔ حدیث کے الفاظ مختصر ہیں، اس لیے بات بھی اتنی ہی رکھی جائے گی کہ ایسے تجارتی انداز سے منع کیا گیا جس میں شہری شخص باہر سے آنے والے دیہاتی کے مال کی فروخت اپنے ہاتھ میں لے لے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • شہری کو دیہاتی کے مال تجارت کا بیچنے والا بننے سے روکا گیا ہے۔
  • تجارت میں ایسے طریقوں سے بچنا چاہیے جن سے بازار کا معاملہ غیر فطری ہو جائے۔
  • بیع و خرید میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت کو اہم سمجھنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں