صحیح بخاری حدیث ۲۱۶۳ - دیہاتی کے لیے دلال نہ بننا
حاضر لباد کا مطلب: دیہاتی کے لیے دلال نہ بنے
صحیح بخاری : ۲۱۶۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۶۳
حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " مَا مَعْنَى قَوْلِهِ : لَا يَبِيعَنَّ حَاضِرٌ لِبَادٍ ؟ فَقَالَ : لَا يَكُنْ لَهُ سِمْسَارًا .
´مجھ سے عیاش بن عبدالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معمر نے بیان کیا، ان سے ابن طاؤس نے، ان سے ان کے باپ نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا مطلب کیا ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال نہ بیچے؟ تو انہوں نے کہا کہ مطلب یہ ہے کہ اس کا دلال نہ بنے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۶۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں اسی ممانعت کی وضاحت آئی ہے جو شہری کے دیہاتی کا مال بیچنے سے متعلق ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد لا يبيعن حاضر لباد کا مطلب کیا ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ اس کا مطلب ہے کہ وہ اس کا دلال نہ بنے۔ اس سے حدیث کا مفہوم بہت صاف ہو جاتا ہے۔ یہاں موضوع دلالی، حاضر لباد، دیہاتی کا مال اور خرید و فروخت کے آداب ہیں۔ اس روایت میں کوئی لمبی تفصیل نہیں دی گئی، بلکہ صرف ایک مختصر تشریح ہے کہ شہری آدمی باہر سے آنے والے دیہاتی کے تجارتی مال کی دلالی نہ کرے۔ اسی حد تک بات رکھی جائے تو حدیث کا مطلب آسانی سے سمجھ آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حاضر لباد کا مطلب اس روایت میں دلال بننا بتایا گیا ہے۔
- دیہاتی کے تجارتی مال کی دلالی سے شہری کو روکا گیا ہے۔
- حدیث سمجھنے کے لیے صحابہ رضی اللہ عنہم کی وضاحت بہت اہم ہوتی ہے۔
- تجارت میں منع کیے گئے طریقوں کو واضح معنی کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔
