صحیح بخاری حدیث ۲۱۶۲ - تجارتی قافلوں سے آگے ملنا

تجارتی قافلوں سے آگے ملنے کی ممانعت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۶۲

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ التَّلَقِّي ، وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (تجارتی قافلوں سے) آگے بڑھ کر ملنے سے منع فرمایا ہے اور بستی والوں کو باہر والوں کا مال بیچنے سے بھی منع فرمایا۔

صحیح بخاری حدیث ۲۱۶۲ کا خلاصہ

یہ حدیث بازار اور تجارت کے دو اہم آداب بتاتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تجارتی قافلوں سے آگے بڑھ کر ملنے سے منع فرمایا، اور یہ بھی منع فرمایا کہ بستی والے باہر والوں کا مال بیچیں۔ اس حدیث کا مرکزی لفظ تلقی یعنی قافلے سے پہلے جا کر ملنا ہے۔ عام فہم انداز میں بات یہ ہے کہ مال بازار تک آنے دیا جائے، اور باہر سے آنے والے تاجر کا معاملہ اس طرح نہ لیا جائے کہ وہ بازار تک پہنچنے سے پہلے ہی کسی خاص شخص کے ہاتھ آ جائے۔ اسی طرح حاضر لباد یعنی شہری کا دیہاتی کے لیے بیچنا بھی اس حدیث میں منع آیا ہے۔ یہ حدیث خرید و فروخت، قافلہ تجارت، بازار کے آداب اور بیع کی صفائی سے متعلق ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • تجارتی قافلوں سے آگے بڑھ کر سودا کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
  • بستی والوں کو باہر والوں کا مال بیچنے سے روکا گیا ہے۔
  • بازار کے معاملات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کا خیال رکھنا چاہیے۔
  • خرید و فروخت میں ایسا انداز نہیں اپنانا چاہیے جس سے مال بازار پہنچنے سے پہلے قابو میں آ جائے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں