صحیح بخاری حدیث ۲۱۶۶ - غلہ بازار میں لانے سے پہلے نہ بیچو
غلہ خرید کر بازار تک پہنچانے کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۱۶۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۶۶
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنَّا نَتَلَقَّى الرُّكْبَانَ فَنَشْتَرِي مِنْهُمُ الطَّعَامَ ، " فَنَهَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَبِيعَهُ حَتَّى يُبْلَغَ بِهِ سُوقُ الطَّعَامِ " ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : هَذَا فِي أَعْلَى السُّوقِ ، يُبَيِّنُهُ حَدِيثُ عُبَيْدِ اللَّهِ .
عبداللہ روایت:
ہم آگے قافلوں کے پاس خود ہی پہنچ جایا کرتے تھے اور (شہر میں پہنچنے سے پہلے ہی) ان سے غلہ خرید لیا کرتے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا کہ ہم اس مال کو اسی جگہ بیچیں جب تک اناج کے بازار میں نہ لائیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ ملنا بازار کے بلند کنارے پر تھا۔ (جدھر سے سوداگر آیا کرتے تھے) اور یہ بات عبیداللہ کی حدیث سے نکلتی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۶۶ کا خلاصہ
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ قافلوں کے پاس پہنچ کر ان سے غلہ خرید لیا کرتے تھے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ اس مال کو اسی جگہ نہ بیچا جائے جب تک اسے اناج کے بازار میں نہ لایا جائے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع غلہ، قافلہ تجارت، خرید و فروخت اور بازار میں منتقل کرنا ہے۔ اس میں یہ بات خاص طور پر آئی ہے کہ طعام یعنی اناج خریدنے کے بعد اسے اسی مقام پر آگے نہ بیچا جائے، بلکہ سوق الطعام یعنی اناج کے بازار تک پہنچایا جائے۔ حدیث کے الفاظ ہمیں بتاتے ہیں کہ خرید کے بعد فوراً اسی جگہ فروخت کرنے پر پابندی بیان ہوئی، خاص طور پر جب مال قافلے سے لیا گیا ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قافلے سے خریدا ہوا غلہ اسی جگہ بیچنے سے منع کیا گیا ہے۔
- غلہ کو اناج کے بازار تک لانے کا حکم بیان ہوا ہے۔
- تجارت میں جگہ اور طریقہ دونوں کا خیال رکھا گیا ہے۔
- بازار کے آداب صرف قیمت تک محدود نہیں بلکہ مال کی منتقلی سے بھی متعلق ہیں۔
