صحیح بخاری حدیث ۲۱۶۷ - غلہ اسی جگہ نہ بیچو
غلہ خریدنے کے بعد اسی جگہ بیچنے کی ممانعت
صحیح بخاری : ۲۱۶۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۶۷
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كَانُوا يَبْتَاعُونَ الطَّعَامَ فِي أَعْلَى السُّوقِ فَيَبِيعُونَهُ فِي مَكَانِهِ ، فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعُوهُ فِي مَكَانِهِ حَتَّى يَنْقُلُوهُ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
لوگ بازار کی بلند جانب جا کر غلہ خریدتے اور وہیں بیچنے لگتے۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ غلہ وہاں نہ بیچیں جب تک اس کو اٹھوا کر دوسری جگہ نہ لے جائیں۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۶۷ کا خلاصہ
یہ حدیث گزشتہ مضمون کو مزید صاف کرتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ لوگ بازار کی بلند جانب جا کر غلہ خریدتے اور وہیں بیچنے لگتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ غلہ اسی جگہ نہ بیچا جائے جب تک اسے اٹھا کر دوسری جگہ نہ لے جائیں۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع غلہ کی بیع، جگہ بدلنا، بازار اور خرید و فروخت کے آداب ہیں۔ یہاں بات یہ نہیں کہ ہر تجارت کی مکمل تفصیل بیان ہوئی، بلکہ خاص طور پر اس عمل کو منع کیا گیا کہ خریدے ہوئے اناج کو اسی مقام پر فوراً فروخت کر دیا جائے۔ آسان انداز میں، مال کو اپنے مقام سے منتقل کیے بغیر اسی جگہ آگے بیچنے سے روکا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غلہ خرید کر اسی جگہ بیچنے سے منع کیا گیا ہے۔
- فروخت سے پہلے غلہ کو اٹھا کر دوسری جگہ لے جانے کا ذکر آیا ہے۔
- بازار میں خرید و فروخت کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عملی رہنمائی دی۔
- تجارت میں صرف سودا طے کرنا کافی نہیں، حدیث میں مال کی منتقلی کا پہلو بھی آیا ہے۔
