صحیح بخاری حدیث ۲۱۶۴ - دودھ جمع کی ہوئی بکری اور قافلہ تجارت
دودھ جمع کی ہوئی بکری اور تلقی بیوع کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۱۶۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۶۴
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : مَنِ اشْتَرَى مُحَفَّلَةً فَلْيَرُدَّ مَعَهَا صَاعًا ، قَالَ : " وَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَلَقِّي الْبُيُوعِ " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
جو کوئی دودھ جمع کی ہوئی بکری خریدے (وہ بکری پھیر دے) اور اس کے ساتھ ایک صاع دیدے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قافلہ والوں سے آگے بڑھ کر ملنے سے منع فرمایا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۶۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں دو باتیں بیان ہوئی ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ جو شخص دودھ جمع کی ہوئی بکری خریدے، وہ اسے واپس کرے تو اس کے ساتھ ایک صاع بھی دے۔ دوسری بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قافلہ والوں سے آگے بڑھ کر ملنے سے منع فرمایا۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع بیع میں احتیاط اور تجارتی قافلوں سے آگے سودا کرنے کی ممانعت ہے۔ دودھ جمع کی ہوئی بکری کا ذکر خرید و فروخت کے ایک خاص معاملے سے ہے، جبکہ تلقی البیوع کا مطلب قافلہ والوں سے بازار پہنچنے سے پہلے ملنا ہے۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ خرید و فروخت میں معاملہ صاف رہے، اور وہ انداز نہ اپنایا جائے جس سے بازار تک آنے والی چیزیں راستے ہی میں خرید لی جائیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دودھ جمع کی ہوئی بکری کے معاملے میں واپس کرنے کے ساتھ ایک صاع دینے کا ذکر آیا ہے۔
- قافلہ والوں سے آگے بڑھ کر ملنے سے منع کیا گیا ہے۔
- خرید و فروخت میں ایسے معاملات سے بچنا چاہیے جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا ہے۔
- بازار سے پہلے راستے میں سودا لینے کا طریقہ اس حدیث میں منع آیا ہے۔
