صحیح بخاری حدیث ۲۱۴۲ - نجش یعنی دھوکے والی بولی سے ممانعت
نجش کی حدیث: دھوکے والی بولی سے بچنے کی تعلیم
صحیح بخاری : ۲۱۴۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۴۲
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّجْشِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «نجش» (فریب، دھوکہ) سے منع فرمایا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۴۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجش سے منع فرمایا۔ نجش کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص سامان خریدنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو، مگر قیمت بڑھانے کے لیے بولی لگائے تاکہ اصل خریدار دھوکے میں آ جائے۔ یہ ایک مختصر حدیث ہے، مگر خرید و فروخت میں دیانت کا بڑا اصول بتاتی ہے۔ بازار میں قیمت بڑھانا، جھوٹی دلچسپی ظاہر کرنا، یا کسی کو مصنوعی مقابلے میں ڈالنا صاف دھوکہ ہے۔ حدیث ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ تجارت صرف نفع کا نام نہیں، بلکہ امانت اور صاف معاملہ بھی ضروری ہے۔ نجش کی حدیث، دھوکے والی بولی، خرید و فروخت میں فریب اور اسلامی تجارت جیسے الفاظ اس روایت کے اصل موضوع کو بیان کرتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خرید و فروخت میں مصنوعی بولی لگانا منع ہے۔
- خریدار کو دھوکے میں ڈال کر قیمت بڑھانا درست نہیں۔
- تجارت میں سچائی اور صاف نیت ضروری ہے۔
- نفع کے لیے فریب کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔
