صحیح بخاری حدیث ۲۱۴۳ - حمل کے حمل کی بیع سے ممانعت
حمل کے حمل کی بیع: غیر واضح مدت والی خرید و فروخت
صحیح بخاری : ۲۱۴۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۴۳
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ " ، وَكَانَ بَيْعًا يَتَبَايَعُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ ، كَانَ الرَّجُلُ يَبْتَاعُ الْجَزُورَ إِلَى أَنْ تُنْتَجَ النَّاقَةُ ، ثُمَّ تُنْتَجُ الَّتِي فِي بَطْنِهَا .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حمل کے حمل کی بیع سے منع فرمایا۔ اس بیع کا طریقہ جاہلیت میں رائج تھا۔ ایک شخص ایک اونٹ یا اونٹنی خریدتا اور قیمت دینے کی میعاد یہ مقرر کرتا کہ ایک اونٹنی جنے پھر اس کے پیٹ کی اونٹنی بڑی ہو کر جنے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۴۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حمل کے حمل کی بیع سے منع فرمایا۔ روایت میں اس کا طریقہ بھی بتایا گیا ہے کہ جاہلیت میں کوئی شخص اونٹ یا اونٹنی خریدتا اور قیمت دینے کی مدت ایسی رکھتا کہ پہلے اونٹنی بچہ جنے، پھر اس کے پیٹ والی اونٹنی بڑی ہو کر بچہ جنے۔ اس میں مدت بھی غیر واضح تھی اور معاملہ بھی آئندہ ہونے والی بات پر رکھا گیا تھا۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ خرید و فروخت میں بات صاف ہونی چاہیے۔ قیمت کب دینی ہے، چیز کیا ہے، اور شرط کیا ہے، یہ سب واضح ہو۔ حمل کے حمل کی بیع، بیع حبل الحبلہ، غیر یقینی بیع اور جاہلیت کی بیع جیسے موضوعات اسی روایت سے جڑے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیع میں مدت اور شرط واضح ہونی چاہیے۔
- غیر یقینی اور دور کی شرط پر معاملہ کرنا منع کیا گیا۔
- جاہلیت کے غلط تجارتی طریقوں سے بچنا چاہیے۔
- خرید و فروخت میں دونوں طرف کی بات صاف ہونا ضروری ہے۔
