صحیح مسلم حدیث ۳۷۰۲ - طلاقِ ثلاثہ کے بعد گھر بدلنے کا حکم
مطلقہ ثلاثہ کی عدت اور گھر بدلنے کا مسئلہ
صحیح مسلم : ۳۷۰۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۰۲
حدثنا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، جَمِيعًا عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حدثنا أَبِي ، عَنْ صَالِح ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَخْبَرَهُ : أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ ، أَخْبَرَتْهُ : أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ ، فَزَعَمَتْ أَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْتَفْتِيهِ فِي خُرُوجِهَا مِنْ بَيْتِهَا ، " فَأَمَرَهَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى " ، فأَبَى مَرْوَانُ أَنْ يُصَدِّقَهُ فِي خُرُوجِ الْمُطَلَّقَةِ مِنْ بَيْتِهَا ، وقَالَ عُرْوَةُ : إِنَّ عَائِشَةَ أَنْكَرَتْ ذَلِكَ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ،
فاطمہ بنت قیس روایت:
وہ ابوعمرو کے پاس تھی اور اس نے تین طلاق دیں پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گھر سے نکلنے کو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ابن ام مکتوم کے گھر چلی جاؤ اور مروان نے ان کی تصدیق نہ کی مطلقہ کے گھر سے نکلنے میں اور عروہ نے کہا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی اس بات کو قابل انکار جانا۔
صحیح مسلم حدیث ۳۷۰۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا معاملہ بیان ہوا ہے کہ وہ ابوعمرو بن حفص کے نکاح میں تھیں، پھر انہیں تیسری طلاق دے دی گئی۔ اس کے بعد وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور اپنے گھر سے نکلنے کے بارے میں پوچھا۔ روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر منتقل ہونے کا حکم دیا۔ اسی متن میں یہ بھی آیا ہے کہ مروان نے مطلقہ کے گھر سے نکلنے کے معاملے میں ان کی بات کو قبول نہ کیا، اور عروہ کے بیان کے مطابق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے اس بیان پر انکار کیا۔ اس لیے اس روایت میں صرف حکم ہی نہیں، بلکہ اس پر بعد کے اختلافِ رائے کا ذکر بھی موجود ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تین طلاق کے بعد عدت کے مقام کا سوال ایک اہم مسئلہ تھا۔
- فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رہنمائی لی۔
- روایت کے متن میں مروان اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے اختلاف کا ذکر بھی آیا ہے۔
