صحیح بخاری حدیث ۵۳۲۵ - فاطمہ بنت قیس کا خاص واقعہ

فاطمہ بنت قیس کا واقعہ: عدت کے گھر کا خاص عذر

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۳۲۵

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ لِعَائِشَةَ : " أَلَمْ تَرَيْ إِلَى فُلَانَةَ بِنْتِ الْحَكَمِ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا الْبَتَّةَ ، فَخَرَجَتْ ، فَقَالَتْ : بِئْسَ مَا صَنَعَتْ ، قَالَ : أَلَمْ تَسْمَعِي فِي قَوْلِ فَاطِمَةَ ، قَالَتْ : أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ لَهَا خَيْرٌ فِي ذِكْرِ هَذَا الْحَدِيثِ " ، وَزَادَ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَابَتْ عَائِشَةُ أَشَدَّ الْعَيْبِ ، وَقَالَتْ : " إِنَّ فَاطِمَةَ كَانَتْ فِي مَكَانٍ وَحْشٍ فَخِيفَ عَلَى نَاحِيَتِهَا ، فَلِذَلِكَ أَرْخَصَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .

´ہم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن مہدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، ان سے ان کے والد نے کہ عروہ بن زبیر نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ` آپ فلانہ (عمرہ بنت حکم) بنت حکم کا معاملہ نہیں دیکھتیں۔ ان کے شوہر نے انہیں طلاق بائنہ دے دی اور وہ وہاں سے نکل آئیں (عدت گزارے بغیر)۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ جو کچھ اس نے کیا بہت برا کیا۔ عروہ نے کہا آپ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ کے متعلق نہیں سنا۔ بتلایا کہ اس کے لیے اس حدیث کو ذکر کرنے میں کوئی خیر نہیں ہے اور ابن ابی زناد نے ہشام سے یہ اضافہ کیا ہے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے (عمرہ بنت حکم کے معاملہ پر) اپنی شدید ناگواری کا اظہار فرمایا اور فرمایا کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا تو ایک اجاڑ جگہ میں تھیں اور اس کے چاروں طرف خوف اور وحشت برستی تھی، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (وہاں سے منتقل ہونے کی) انہیں اجازت دے دی تھی۔

صحیح بخاری حدیث ۵۳۲۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک عورت کا ذکر کیا جسے شوہر نے طلاق بائنہ دی اور وہ عدت کے دوران نکل آئی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے برا عمل قرار دیا۔ جب فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے واقعے کا ذکر ہوا تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے دلیل بنانے کو پسند نہیں کیا۔ اضافی روایت میں آیا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ایک ویران اور خوف والی جگہ میں تھیں، اس لیے نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے انہیں وہاں سے منتقل ہونے کی اجازت دی تھی۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ خاص عذر والے واقعے کو ہر مطلقہ عورت کے لیے عام حکم نہیں بنایا جا سکتا۔ عدت کا گھر اور عورت کی حفاظت دونوں باتیں یہاں سامنے آتی ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عائشہ رضی اللہ عنہا نے عدت کے دوران گھر چھوڑنے کو برا کہا۔
  • فاطمہ بنت قیس کا واقعہ خاص خوف والی جگہ سے متعلق بتایا گیا۔
  • خاص اجازت کو عام حکم بنانے سے احتیاط کرنی چاہیے۔
  • عدت میں رہائش اور حفاظت دونوں پہلو اہم ہیں۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں