صحیح بخاری حدیث ۵۳۲۴ - لا سکنی ولا نفقة پر اعتراض

طلاق بائنہ میں نفقہ و سکنی: احتیاط کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۳۲۴

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " مَا لِفَاطِمَةَ أَلَا تَتَّقِي اللَّهَ ؟ يَعْنِي فِي قَوْلِهَا : لَا سُكْنَى وَلَا نَفَقَةَ " .

عائشہ روایت:

فاطمہ بنت قیس، اللہ سے ڈرتی نہیں! ان کا اشارہ ان کے اس قول کی طرف تھا (کہ مطلقہ بائنہ کو) «نفقة وسكنى» دینا ضروری نہیں جو کہتی ہے کہ طلاق بائن جس عورت پر پڑے اسے مسکن اور خرچہ نہیں ملے گا۔

صحیح بخاری حدیث ۵۳۲۴ کا خلاصہ

یہ حدیث پچھلی روایت ہی کی طرح فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے قول پر عائشہ رضی اللہ عنہا کی تنبیہ بیان کرتی ہے۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ طلاق بائنہ والی عورت کو مسکن اور خرچ نہیں ملتا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس پر سخت ناپسندیدگی ظاہر کی اور اللہ سے ڈرنے کی بات فرمائی۔ اس حدیث کا اصل فائدہ یہ ہے کہ طلاق کے بعد عورت کے نفقہ و سکنی کے مسئلے میں احتیاط ضروری ہے۔ ہمیں روایت سے صرف اتنی بات لینی چاہیے جتنی اس میں موجود ہے: عائشہ رضی اللہ عنہا نے فاطمہ کے اس عمومی بیان کو درست انداز میں پیش نہ کرنے پر اعتراض کیا۔ اس میں کسی اضافی واقعے کو شامل نہیں کیا گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • طلاق بائنہ کے نفقہ و سکنی پر صحابہ کے ہاں بحث موجود تھی۔
  • عائشہ رضی اللہ عنہا نے فاطمہ بنت قیس کے قول پر سخت تنبیہ کی۔
  • روایت ہمیں دینی مسئلے میں احتیاط سے بات کرنے کا سبق دیتی ہے۔
  • اس حدیث میں خاص طور پر رہائش اور خرچ کے الفاظ آئے ہیں۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں