صحیح بخاری حدیث ۵۳۲۶ - طلاق بائنہ اور عدت کا حکم

طلاق بائنہ کی عدت اور رہائش کا درست فہم

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۳۲۶

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ لِعَائِشَةَ : " أَلَمْ تَرَيْ إِلَى فُلَانَةَ بِنْتِ الْحَكَمِ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا الْبَتَّةَ ، فَخَرَجَتْ ، فَقَالَتْ : بِئْسَ مَا صَنَعَتْ ، قَالَ : أَلَمْ تَسْمَعِي فِي قَوْلِ فَاطِمَةَ ، قَالَتْ : أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ لَهَا خَيْرٌ فِي ذِكْرِ هَذَا الْحَدِيثِ " ، وَزَادَ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَابَتْ عَائِشَةُ أَشَدَّ الْعَيْبِ ، وَقَالَتْ : " إِنَّ فَاطِمَةَ كَانَتْ فِي مَكَانٍ وَحْشٍ فَخِيفَ عَلَى نَاحِيَتِهَا ، فَلِذَلِكَ أَرْخَصَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .

´ہم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن مہدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، ان سے ان کے والد نے کہ عروہ بن زبیر نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ` آپ فلانہ (عمرہ بنت حکم) بنت حکم کا معاملہ نہیں دیکھتیں۔ ان کے شوہر نے انہیں طلاق بائنہ دے دی اور وہ وہاں سے نکل آئیں (عدت گزارے بغیر)۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ جو کچھ اس نے کیا بہت برا کیا۔ عروہ نے کہا آپ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ کے متعلق نہیں سنا۔ بتلایا کہ اس کے لیے اس حدیث کو ذکر کرنے میں کوئی خیر نہیں ہے اور ابن ابی زناد نے ہشام سے یہ اضافہ کیا ہے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے (عمرہ بنت حکم کے معاملہ پر) اپنی شدید ناگواری کا اظہار فرمایا اور فرمایا کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا تو ایک اجاڑ جگہ میں تھیں اور اس کے چاروں طرف خوف اور وحشت برستی تھی، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (وہاں سے منتقل ہونے کی) انہیں اجازت دے دی تھی۔

صحیح بخاری حدیث ۵۳۲۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں طلاق بائنہ، عدت اور مطلقہ عورت کی رہائش کا ایک اہم پہلو سامنے آتا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بات کو پسند نہیں فرمایا کہ ہر عورت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے واقعہ کو اپنے لیے عام دلیل بنا لے۔ حدیث کے الفاظ کے مطابق فاطمہ رضی اللہ عنہا ایک ایسی جگہ تھیں جہاں خوف اور وحشت تھی، اسی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وہاں سے منتقل ہونے کی اجازت دی۔ اس سے بات صاف ہوتی ہے کہ مطلقہ بائنہ کی عدت کے مسائل میں حالات کو سمجھے بغیر فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ دین میں حکم کو اس کے موقع اور سبب کے ساتھ سمجھنا ضروری ہے، خاص طور پر جب معاملہ عورت کی عدت، رہائش اور حفاظت سے متعلق ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • طلاق بائنہ کے بعد عدت کے معاملے میں جلد بازی سے فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔
  • فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا واقعہ خاص خوف اور غیر محفوظ جگہ سے متعلق تھا۔
  • شرعی حکم کو اس کے اصل سبب اور حالت کے ساتھ سمجھنا ضروری ہے۔
  • صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دینی مسائل میں احتیاط اور دقت سے بات کرتے تھے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں