صحیح بخاری حدیث ۵۳۲۷ - مطلقہ بائنہ کے نفقہ کا مسئلہ
مطلقہ بائنہ کا نفقہ اور رہائش: عائشہ رضی اللہ عنہا کا موقف
صحیح بخاری : ۵۳۲۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۳۲۷
حَدَّثَنِي حِبَّانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، " أَنَّ عَائِشَةَ أَنْكَرَتْ ذَلِكَ عَلَى فَاطِمَةَ " .
عروہ روایت:
عائشہ رضی اللہ عنہا نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی اس بات کا (کہ مطلقہ بائنہ کو «نفقة وسكنى» نہیں ملے گا) انکار کیا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۳۲۷ کا خلاصہ
یہ مختصر حدیث طلاق بائنہ، نفقہ اور رہائش کے مسئلے سے متعلق ہے۔ روایت میں بتایا گیا ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی اس بات کا انکار کیا کہ مطلقہ بائنہ کو نفقہ اور رہائش نہیں ملے گی۔ یہاں اصل نکتہ یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دینی بات کو بہت احتیاط سے لیتے تھے۔ جب کسی روایت سے عام حکم سمجھا جا رہا ہو تو اہل علم اس کے پس منظر، الفاظ اور دوسرے دلائل کو بھی دیکھتے ہیں۔ اس حدیث میں کوئی لمبی تفصیل نہیں، اس لیے اسی حد تک بات رکھی جانی چاہیے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس موقف سے اتفاق نہیں کیا۔ طلاق کے مسائل میں یہی احتیاط ضروری ہے، کیونکہ نفقہ، رہائش اور عدت جیسے معاملات خاندان اور عورت کے حق سے جڑے ہوتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- طلاق بائنہ کے نفقہ اور رہائش کا مسئلہ احتیاط سے سمجھنے والا مسئلہ ہے۔
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دینی بات میں اختلاف کو علم اور دلیل کے ساتھ بیان کرتے تھے۔
- مختصر روایت سے اس سے زیادہ بات نہیں نکالنی چاہیے جو متن میں موجود ہو۔
- عورت کے حقوق سے متعلق مسائل میں سنجیدگی ضروری ہے۔
