صحیح بخاری حدیث ۵۳۲۸ - طلاق بائنہ میں رہائش اور نفقہ
طلاق بائنہ، نفقہ اور رہائش کا محتاط فہم
صحیح بخاری : ۵۳۲۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۳۲۸
حَدَّثَنِي حِبَّانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، " أَنَّ عَائِشَةَ أَنْكَرَتْ ذَلِكَ عَلَى فَاطِمَةَ " .
عروہ روایت:
عائشہ رضی اللہ عنہا نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی اس بات کا (کہ مطلقہ بائنہ کو «نفقة وسكنى» نہیں ملے گا) انکار کیا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۳۲۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں وہی اہم بات بیان ہوئی ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے اس بیان کا انکار کیا جو مطلقہ بائنہ کے نفقہ اور رہائش سے متعلق تھا۔ حدیث بہت مختصر ہے، اس لیے اس سے صرف یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ اس مسئلے میں عائشہ رضی اللہ عنہا کا موقف مختلف تھا۔ طلاق بائنہ کی حدیث تلاش کرنے والے عموماً نفقہ، سکنیٰ اور عدت کے احکام جاننا چاہتے ہیں، مگر یہاں ضروری ہے کہ الفاظ سے آگے نہ بڑھا جائے۔ یہ روایت ہمیں دینی مسائل میں احتیاط، اہل علم کی طرف رجوع اور مختلف روایات کو ملाकर سمجھنے کی ضرورت یاد دلاتی ہے۔ خاص طور پر عورت کے حق، عدت کی مدت اور رہائش جیسے معاملات میں ایک جملے سے عام نتیجہ نکالنا مناسب نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینی مسئلہ مختصر روایت پر اکیلے قائم کرنے سے پہلے پوری بحث سمجھنی چاہیے۔
- عائشہ رضی اللہ عنہا نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے قول کا انکار کیا۔
- طلاق بائنہ کے مسائل میں نفقہ اور رہائش جیسے حقوق کو سنجیدگی سے دیکھنا چاہیے۔
- حدیث کے متن سے زیادہ بات شامل نہیں کرنی چاہیے۔
