صحیح مسلم حدیث ۳۵۹۸ - دس سے پانچ رضعات کا ذکر

دس رضعات سے پانچ رضعات: رضاعت کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۵۹۸

حدثنا حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعَنْبِيُّ ، حدثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ ، تَقُولُ وَهِيَ تَذْكُرُ الَّذِي يُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ ، قَالَت عَمْرَةُ : فقَالَت عَائِشَةُ : " نَزَلَ فِي الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ ، ثُمَّ نَزَلَ أَيْضًا خَمْسٌ مَعْلُومَاتٌ " ،

عائشہ روایت:

عمرہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ ذکر کرتی تھیں اس رضاعت کا جس سے حرمت ثابت ہوتی ہے۔ تب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرمایا کہ قرآن مجید میں دس بار دودھ چوسنا اترا، پھر پانچ بار چوسنا اترا۔

صحیح مسلم حدیث ۳۵۹۸ کا خلاصہ

اس روایت میں عمرہ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رضاعت کے بارے میں سنا، یعنی وہ رضاعت جس سے حرمت ثابت ہوتی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ قرآن میں دس معلوم رضعات اتریں، پھر پانچ معلوم رضعات بھی اتریں۔ یہ حدیث خمس رضعات معلومات، رضاعت کی مقدار اور حرمت رضاعت کے موضوع سے جڑی ہوئی ہے۔ عام قاری کے لیے اس کا آسان مطلب یہ ہے کہ روایت رضاعت کی تعداد کے بیان کو نقل کر رہی ہے۔ اس میں وہی بات ہے جو متن میں آئی: پہلے دس رضعات کا ذکر، پھر پانچ رضعات کا ذکر۔ اس سے زیادہ تاریخی یا فقہی تفصیل اس حدیث کے متن میں نہیں، اس لیے وضاحت کو اسی تک محدود رکھنا بہتر ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رضاعت کی مقدار کا ذکر کیا۔
  • روایت میں دس معلوم رضعات اور پھر پانچ معلوم رضعات کا بیان ہے۔
  • حدیث کا موضوع وہ رضاعت ہے جس سے حرمت ثابت ہوتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں