صحیح بخاری حدیث ۲۴۲۳ - مسجد میں قیدی کو باندھنے کا واقعہ
مسجد میں قیدی کا واقعہ: ثمامہ بن اثال کی مختصر روایت
صحیح بخاری : ۲۴۲۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۲۳
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا قِبَلَ نَجْدٍ ، فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ يُقَالُ لَهُ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ ، فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سواروں کا ایک لشکر نجد کی طرف بھیجا جو بنو حنیفہ کے ایک شخص ثمامہ بن اثال کو پکڑ لائے۔ اور مسجد کے ایک ستون سے اس کو باندھ دیا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۴۲۳ کا خلاصہ
یہ روایت ثمامہ بن اثال کے واقعے کا مختصر حصہ بیان کرتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف سواروں کا لشکر بھیجا۔ وہ بنو حنیفہ کے ایک شخص ثمامہ بن اثال کو لے آئے اور انہیں مسجد کے ایک ستون سے باندھ دیا۔ اس حدیث میں زیادہ تفصیل نہیں آئی، اس لیے اسی حد تک بات سمجھنی چاہیے جو متن میں موجود ہے۔ اصل نکتہ یہ ہے کہ قیدی کو قابو میں رکھا گیا اور اسے مسجد کے ستون سے باندھا گیا۔ یہ روایت عام طور پر قیدی، مسجد، نگرانی اور اسلامی معاملہ فہمی کے عنوان سے تلاش کی جاتی ہے۔ اس میں کسی اضافی نتیجے کو متن سے بڑھا کر بیان نہیں کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قیدی کو محفوظ رکھنے کے لیے باندھنے کا ذکر روایت میں موجود ہے۔
- ثمامہ بن اثال بنو حنیفہ سے تعلق رکھتے تھے۔
- واقعہ مسجد نبوی کے ستون سے متعلق ہے۔
- روایت مختصر ہے، اس لیے اسی کے الفاظ تک بات محدود رہنی چاہیے۔
