صحیح بخاری حدیث ۲۴۸۴ - توشے میں برکت
توشے میں برکت کی حدیث: مل جل کر ضرورت پوری کرنا
صحیح بخاری : ۲۴۸۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۸۴
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مَرْحُومٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " خَفَّتْ أَزْوَادُ الْقَوْمِ وَأَمْلَقُوا ، فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَحْرِ إِبِلِهِمْ ، فَأَذِنَ لَهُمْ ، فَلَقِيَهُمْ عُمَرُ فَأَخْبَرُوهُ ، فَقَالَ : مَا بَقَاؤُكُمْ بَعْدَ إِبِلِكُمْ ، فَدَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا بَقَاؤُهُمْ بَعْدَ إِبِلِهِمْ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَادِ فِي النَّاسِ فَيَأْتُونَ بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ ، فَبُسِطَ لِذَلِكَ نِطَعٌ وَجَعَلُوهُ عَلَى النِّطَعِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا وَبَرَّكَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ دَعَاهُمْ بِأَوْعِيَتِهِمْ ، فَاحْتَثَى النَّاسُ حَتَّى فَرَغُوا ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ " .
سلمہ روایت:
غزوہ ہوازن میں) لوگوں کے توشے ختم ہو گئے اور فقر و محتاجی آ گئی، تو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اپنے اونٹوں کو ذبح کرنے کی اجازت لینے (تاکہ انہیں کے گوشت سے پیٹ بھر سکیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ راستے میں عمر رضی اللہ عنہ کی ملاقات ان سے ہو گئی تو انہیں بھی ان لوگوں نے اطلاع دی۔عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اونٹوں کو کاٹ ڈالو گے تو پھر تم کیسے زندہ رہو گے۔ چنانچہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا، یا رسول اللہ! اگر انہوں نے اونٹ بھی ذبح کر لیے تو پھر یہ لوگ کیسے زندہ رہیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا، تمام لوگوں میں اعلان کر دو کہ ان کے پاس جو کچھ توشے بچ رہے ہیں وہ لے کر یہاں آ جائیں۔ اس کے لیے ایک چمڑے کا دستر خوان بچھا دیا گیا۔ اور لوگوں نے توشے اسی دستر خوان پر لا کر رکھ دئیے۔اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور اس میں برکت کی دعا فرمائی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر سب لوگوں کو اپنے اپنے برتنوں کے ساتھ بلایا اور سب نے دونوں ہاتھوں سے توشے اپنے برتنوں میں بھر لیے۔ جب سب لوگ بھر چکے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا سچا رسول ہوں۔“
صحیح بخاری حدیث ۲۴۸۴ کا خلاصہ
یہ توشے میں برکت کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ مشکل وقت میں جلدی فیصلہ کرنے کے بجائے سمجھ داری سے کام لینا چاہیے۔ غزوہ کے موقع پر لوگوں کا توشہ کم ہو گیا اور محتاجی آ گئی۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اونٹ ذبح کرنے کی اجازت مانگی۔ اجازت مل گئی، مگر عمر رضی اللہ عنہ نے سوچا کہ اگر اونٹ بھی ذبح ہو گئے تو سواری اور بقا کا کیا بنے گا۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا۔ پھر اعلان ہوا کہ جس کے پاس بچا ہوا توشہ ہے وہ لے آئے۔ سب نے تھوڑا تھوڑا جمع کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں برکت کی دعا فرمائی، پھر سب نے اپنے برتن بھر لیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مشکل میں اجتماعی مشورہ فائدہ دیتا ہے۔
- بچا ہوا تھوڑا مال بھی جمع ہو کر کام آ سکتا ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی اور لوگوں کی ضرورت پوری ہوئی۔
- ضرورت کے وقت سواری جیسے اہم وسائل کو بچانا بھی حکمت ہے۔
